اردوئے معلیٰ

Search

یہ عشق یونہی ہمیشہ نوازشات کرے

ذرا سی دُوری پہ دل میرا ، نعت نعت کرے

 

شجر پہ بیٹھے پرندے بھی تیری نعت پڑھیں

ہوا چلے تو ترا ذکر پات پات کرے

 

ردائے گل پہ وضو کر کے پڑھ رہی ہے درود

سحر کو باغ میں خوشبو سے کون بات کرے

 

سفر ہو دونوں جہانوں کا اور ملنا بھی

خدا کے ساتھ ہو پھر ناز کیوں نہ رات کرے

 

جہاں پڑے ہیں قدم آپ کے وہاں لے جائے

بس اتنا مجھ پہ یہ احساں مری حیات کرے

 

تمہارے نام کی خوشبو جو زینتِ لب ہو

تو کیوں نہ بوسے یہ حرفوں کی کائنات کرے

 

حضور باغِ کرم سے وہ نکہتیں ہوں عطا

کہ مسکرا کے دعائیں گلِ نجات کرے

 

حدوں کو آپ اگر وسعتیں عطا کر دیں

ندی کے آگے سمندر گزارشات کرے

 

جہاں پہ رحمتیں رکھتی ہوں خیر کے سائے

مجال کیا کہ وہاں کفر واردات کرے

 

تمہارا اسمِ مقدس جہانِ خوشبو ہے

لبوں کو کیوں نہ معطر یہ کائنات کرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ