یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

ترے پیار کی بدولت مجھے میرے رب نے دی ہے

 

تیری یاد کے تصدق تیرے پیار کے میں قرباں

تیری بندہ پروری سے مری آنکھ شبنمی ہے

 

مہہ و مہر کو بھی اتنی نہ ہوئی نصیب شاید

جو تیری ضیا سے ہر سو مرے چاندنی کھلی ہے

 

تیرا نام لے کے سونا تجھے یاد کر کے رونا

یہی مری زندگی ہے یہی مری بندگی ہے

 

تیری نعت کے کرم نے اسے معتبر کیا ہے

کہاں آسؔ ہے وگرنہ کہاں اس کی شاعری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات