اردوئے معلیٰ

یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرے لیے

 

یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرے لیے

یہ دل مچلتا رہا بار بار تیرے لیے

 

کسے پکاروں نہیں ماسوا کوئی تیرے

مری صدائیں مری ہر پکار تیرے لیے

 

فلک پہ تیرے لیے ہی سجے ہیں ماہ و نجوم

گلوں کو دیتی ہے خوشبو بہار تیرے لیے

 

یقیں ہے میری شفاعت کرے گی تیری ذات

مرا بھروسہ مرا اعتبار تیرے لیے

 

ہر ایک دستِ طلب میں ہے جستجو تیری

بچھے ہیں راہ میں پلکوں کے ہار تیرے لیے

 

لحد میں بھی ہو مرا ہمنشیں درُود و سلام

درُود پڑھتا رہوں بے شمار تیرے لیے

 

یہ جو بھی حال ہے اشفاقؔ کا تری خاطر

قرار تیرے لیے بے قرار تیرے لیے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ