یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

جھولی میں اگر ٹکڑے تمھارے نہیں ہوتے

 

جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے

روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے

 

ملتی نہ اگر بھیک حضور آپ کےدر سے

اِس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزار ے نہیں ہوتے

 

بےدام ہی بک جائیے بازار نبی میں

اس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

 

وہ چاہیں بلا لیں جسے یہ اُن کا کرم ہے

بے اذن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے

 

ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا

سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

 

خالد یہ تصدق ہے فقط نعت کا ورنہ

محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ