یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

جھولی میں اگر ٹکڑے تمھارے نہیں ہوتے

 

جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے

روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے

 

ملتی نہ اگر بھیک حضور آپ کےدر سے

اِس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزار ے نہیں ہوتے

 

بےدام ہی بک جائیے بازار نبی میں

اس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

 

وہ چاہیں بلا لیں جسے یہ اُن کا کرم ہے

بے اذن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے

 

ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا

سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

 

خالد یہ تصدق ہے فقط نعت کا ورنہ

محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الواریٰ، خاتم الانبیاء
کبھی کبھی یہ نظارہ بچشم تر آیا
اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے
لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں
منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں
شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی
یاد
اک عالمگیر نظام
دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ