اردوئے معلیٰ

Search

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

جھولی میں اگر ٹکڑے تمھارے نہیں ہوتے

 

جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے

روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے

 

ملتی نہ اگر بھیک حضور آپ کےدر سے

اِس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزار ے نہیں ہوتے

 

بےدام ہی بک جائیے بازار نبی میں

اس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

 

وہ چاہیں بلا لیں جسے یہ اُن کا کرم ہے

بے اذن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے

 

ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا

سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

 

خالد یہ تصدق ہے فقط نعت کا ورنہ

محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ