یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے

 

یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے

فقط اللہ کو سجدہ روا ہے

 

تُو واحد ہے ، احد ہے ، تُو صمد ہے

ترے جیسا نہ کوئی دوسرا ہے

 

نہیں اس میں ذرا سا بھی کوئی شک

کہ راہِ مصطفےٰ ، راہِ خدا ہے

 

نہیں اوجھل جہاں میں کچھ بھی تجھ سے

تجھے ہر شے کے بارے میں پتا ہے

 

!عطا کر ہر وہ شے تُو میرے مالک

سراسر جس میں بس میرا بھلا ہے

 

جو تیرا باغی ہے رکھ دُور اُس سے

دے الفت اُس کی جو تجھ سے جڑا ہے

 

!بچا اُس رہ سے تُو ہم کو خدایا

جو رستہ بس گناہوں سے اٹا ہے

 

ہمیں توفیق دے وہ سب کریں ہم

کہ جس میں اے خدا ! تیری رضا ہے

 

ہے ستّر ماؤں سے بھی مہرباں تُو

کرم بے انتہا , حد سے ورا ہے

 

ہے جو کچھ بھی زمین و آسماں میں

ترا ہے بس ترا ہے بس ترا ہے

 

کوئی اونچا نہیں رتبے میں تجھ سے

بڑا ہے ، تُو بڑا ہے ، تُو بڑا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
ہم کو سرکار جو قدموں میں بلاتے اپنے
آرزو کس کی کروں ان کی تمنا چھوڑ کر

اشتہارات