اردوئے معلیٰ

 

یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے

خدا کی قسم ان کو موجود پایا جو سر کو جھکایا سویرے سویرے

 

سراپا یہ رحمت یہ شانِ محبت میں قربان جاوؔں بہ نظرِ عنایت

کبھی شامِ خم تم تصور میں آئے کبھی رُخ دکھایا سویرے سویرے

 

امیں کو ہوا حکم جائے ادب سے کہے جاکے یوں میرے امتی لقب سے

مبارک تمہیں ہو، یہ معراج کی شب، پیامِ حق آیا سویرے سویرے

 

ہوا نور کا جس گھڑی یعنی تڑکا موذن نے جب نام ان کا پکارا

نکل آئے آنسو ہوا مضطرب دل بہت خوب رویا سویرے سویرے

 

شبِ ہجر کی تو خیر باتوں میں کاٹی صبح ہوتے ہوتے یہ دل نے صدا دی

نہیں تابِ فرقت چلے آوؔ حضرت یہ اخم اٹھایا سویرے سویرے

 

ملک حوروں غملاں فلک کے ستارے یہ سجاد کرتے ہیں ہر دم سویرے

قمر رات بھر ان کے روضے پہ گھُوما تو خورشید آیا سویرے سویرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات