یہ کس کے نور کی تشریف آوری ہوئی ہے

یہ کس کے نور کی تشریف آوری ہوئی ہے

چہار سمت دو عالم میں روشنی ہوئی ہے

 

خدا نے مالک و مختارِ کُل کیا اُن کو

یہ کائنات اُنہی کے لیے بنی ہوئی ہے

 

وہ شہ جمال ہوا جب سے ارض پر معبوث

نگاہِ حسنِ زمانہ دبی جھکی ہوئی ہے

 

خیالِ شافعِ محشر ہمیں جونہی آیا

سکونِ قلب ملا دور بے کلی ہوئی ہے

 

نہ صرف روحِ امیں نے علم لگائے ہیں

تمام خلق براے نبی سجی ہوئی ہے

 

پڑی ہے چہرۂ والشمس پر نظر جب سے

سراجِ وقت کی کافور تشنگی ہوئی ہے

 

قمرؔ نے دیکھا ہے جب سے ہلالِ ماہِ نبی

بیان کیسے کرے کس قدر خوشی ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ