اردوئے معلیٰ

Search

یہ کہاں میرے اپنے بس میں ہے

دل شہِ دیں کی دسترس میں ہے

 

تیری نسبت سے ہُوں چمن آثار

ورنہ کیا میرے خار و خس میں ہے

 

پُوری کر دیجیے بہ اذنِ سفر

اک کمی سی جو اِس برس میں ہے

 

جو بھی چاہے درِ کریم سے مانگ

کیوں دلِ زار پیش و پس میں ہے

 

کتنی دل جُو ہے وہ شعاعِ جمال

سبز گنبد کے جو کلَس میں ہے

 

اسمِ شیریں ہے آپ کا لب پر

اور تلطف نفَس میں ہے

 

قیدِ غم سے کریں گے آپ رہا

یہ کرم آپ ہی کے بس میں ہے

 

مطمئن ہُوں کہ مغفرت میری

میرے آقا کی دسترس میں ہے

 

بے عنایت ثنا گری مقصودؔ

کس کی ہمت میں ، کس کے بس میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ