اردوئے معلیٰ

Search

یہ ہے شہر طیبہ ، یہ طیبہ کی گلیاں

بڑی خوبصورت ہیں رشکِ گلستاں

 

بتا تجھ سے کیا کم ہیں قسمت میں رضواں

مرے کملی والے کی چوکھٹ کے درباں

 

یہ شانِ ریاضِ رسول، اللہ اللہ

ہے جنت بھی سو جان سے جس پہ قرباں

 

یہی تو وہ ارضِ مقدس ہے لوگو

جہاں کا ہے ہر ذرہ لعلِ درخشاں

 

میسر ہے اس کو متاعِ دوعالم ہوا

مصطفی کا جو قسمت سے مہماں

 

مقامِ ادب ہے دبے پاؤں چلئے

یہاں سو رہا ہے دوعالم کا سلطاں

 

نہ ہوگی جسے ارض طیبہ سے نسبت

مکمل نہ ہوگا کبھی اس کا ایماں

 

ترے رحم و رافت پہ اے میرے آقا

تصدق میں اور میرے ماں باپ قرباں

 

جب افسرؔ غلام شہ دو سرا ہے

نہ کیوں ہو مقدر پہ پھر اپنے نازاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ