‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں

لڑاکا لوگوں کے نام

‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں

عِشق اِتنا ھے کہ ھم روز جَھگڑ بیٹھتے ہیں

 

دو گھڑی صُلح صفائی، کئی پَل دنگا فساد

کیسے معصوم ھیں ھنستے ھُوئے لَڑ بیٹھتے ہیں

 

لاکھ ھم رُوٹھیں مگــر آپ منا لیں گے ھمیں

بس اِسی مان پہ ھم آپ سے اَڑ بیٹھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شہر بانو کے لیے ایک نظم
سالگرہ
قائدِ اعظمؒ
خیرات
(برگد جیسے لوگوں کے نام)
یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر
آج کے بعد اگر آیا تو کیا آیا تُو
آنکھ کے شیشے پہ کیسا نقشِ حیرانی لگا
برسوں سنبھالی لب پہ ترے ذائقے کی یاد
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

اشتہارات