اردوئے معلیٰ

کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا

کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا

تیری پرچھائیں کو بھی ٹوٹ کے چاہا ، آہا

 

آخری سانس کی لذت کوئی اُس سے پوچھے

مرتے مرتے بھی جو بیمار کراہا ، آہا

 

شعر کہنا ہے تو یوں کہہ کہ ترا دشمن بھی

دُشمنی بھول کے چِلا اُٹھے ، آہا ، آہا

 

تیری آنکھوں میں کھٹکتا ہے مرے جیسا فقیر

کیسا اعلیٰ ترا معیار ہے ، شاہا ، آہا

 

کل میرے حق میں تھا اور آج مخالف ہوا تو

کیسے بدلا ہے بیاں تو نے گواہا ، آہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ