اردوئے معلیٰ

Search

اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا

طلب ہے کچھ تو بے طلب سوالیوں میں بیٹھ جا

 

یہ معرفت کے راستے ہیں اہلِ دل کے واسطے

جنیدیوں سے جا کے مل، غِزالیوں میں بیٹھ جا

 

صحابیوں سے پھول ، تابعین سے چراغ لے

حضور چاہئیں تو اِن موالیوں میں بیٹھ جا

 

درود پڑھ ، نماز پڑھ، عبادتوں کے راز پڑھ

صفیں تو سب بچھی ہیں عشق والیوں میں بیٹھ جا

 

ہر ایک سانس پر جو اُن کو دیکھنے کا شوق ہے

تو آنکھ بن کر اُن کے در کی جالیوں میں بیٹھ جا

 

اگر ہیں خلوتیں عزیز تو ہجوم میں نکل

اگر سکُون چاہئیے ، دھمالیوں میں بیٹھ جا

 

جو چاہتا ہے گُلستانِ مصطفےٰ کی نوکری

تو بُوئے مصطفےٰ پہن کے مالیوں میں بیٹھ جا

 

مظفر ،آپ(ص) تک رسائی اتنی سہل تو نہیں

توجہ چاہئیے تو یرغمالیوں میں بیٹھ جا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ