اردوئے معلیٰ

Search

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

 

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں

یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

 

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں

نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

 

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

 

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ