دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو

دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو

تُو میرے آس پاس ہے، تُو میرے چارسُو

 

تیرے کرم سے ہیں مری سانسیں رواں دواں

تیرے کرم سے میری رگوں میں رواں لہو

 

ہر پل مرا گزرتا ہے تیری ہی یاد میں

ہر دم زباں پہ رہتی ہے تیری ہی گفتگو

 

ستّار تُو مرا ہے، تُو غفّار ہے مرا

تُو چارا گر مرا ہے، مرا کارساز تُو

 

بے بال و پر کو تُو نے عطا بال و پر کیے

بے آبرو کو تُو نے عطا کی ہے آبرو

 

تُو نے مجھے بھی عشقِ حبیبِ خداؐ دیا

مدت سے تھی مجھے اسی نعمت کی جستجو

 

مست و الست ہے، ترا مجذوب ہے ظفرؔ

اس کی زباں سے، قلب سے جاری ہے اللہ ہُو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ
ہوتا ہے ترے نام سے آغاز مرا دن​
خدا کا خوف جس دل میں سمائے
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے