اردوئے معلیٰ

سلونی سلونی کا یہ تاجور

میں کوفہ کی قاتل فضاؤں میں گم ہوں
میں ماتم کی غمگیں صداؤں میں گم ہوں
او ساجد کے قاتل
او عابد کے قاتل
او زاہد کے قاتل
انگوٹھی کا تحفہ، تجلی، تشفی، عقیدت، محبت خدا کی رضاؤں کے قاتل
او! کوفہ کی گلیوں،محلوں کی رونق کے قاتل
دنوں کی سفیدی سے تیرہ شبی ایسے بدلی گئی ہے
کہ چہرہ بہ چہرہ کوئی زہر پھیلا ،تو آنکھوں پہ پپڑی سی اِک جم گئی ہے
مجھے شہر سارا کھنڈر سا لگا ہے
قسم ہے خدیجہ کے نوکر کے قدموں سے اڑتی ہوئی دھول کی مجھ کو یا رب

میں چشمِ تصور میں کوفہ گئی ہوں
میں کوفہ کے مشرق سے مغرب پھری ہوں
میں چشمِ تصور میں بس حاجرہ ہوں
جو پانی نہیں ہے۔۔۔تو میں کوفیوں کی یہ اجڑی ہوئی صورتیں دیکھ کر دم بہ خود رہ گئی ہوں
مجھے شہر کوفہ کی اک خستہ مسجد سے نوریں لہو کی
ہے مہکار آئی
مصلےٰ،صفیں ،فرشِ اور صحنِ مسجد ہیں سب خوں میں غلطاں
میں حیراں نوردی کی تصویر بن کر
کبھی اِک کی جانب
کبھی دوسرے کو نگاہوں میں بھر کر
لہو رو رہی ہوں
سبھی سر کھلے ہیں
سبھی کے بدن خاک وخوں میں ہیں لت پت
شمالا جنوباّ سبھی چھوٹے بچوں کے کوزے بھی ٹوٹے پڑے ہیں
تو کوزوں سے بہتا ہوا دودھ کوفہ کی گلیوں میں جم سا گیا ہے
وہ رمضاں کی اک صبح صادق
کہ کوفہ کا ہر آدمی ، پیرہو کہ جواں ہو
گھڑی دو گھڑی کے لیےشرفِ جبریل ٹھہرا ہے
سبھی سن رہے تھے، سبھی کہہ رہے تھے
محمد کا بھائی
خدیجہ کا داماد
وہ مولود کعبہ
وہ ہارونِ دینِِ محمد
علی ابنِِ عمراں
شقی ابنِ ملجم کے خنجر سے زخمی ہوا ہے
علی ابنِ عمراں
وہ کوفہ کے لوگوں کا اتنا ستایا ہوا تھا
کہ اکیسویں کو
سلونی سلونی کا یہ تاجور بھی
شہیدِ رضائے الٰہی ہوا ہے
عمامہ ہے اک اور
مصلےٰ ہے جو خشک پتوں سے خود ہی بنایا ہوا ہے
تو خاکِ شفا کی ہے تسبیح
جو ہاتھوں میں الجھی ہوئی ہے
اثاثہ یہ سارا ہے خوں میں نہایا ہوا سا
جو پیکر ہے تیری رضا کا
علی ہے ،علی ہے
جو گھر تیرے آیا تھاتیری رضا کو
مگر میرے مالک
یہ کوفہ کی مسجد سے پوچھے گا کعبہ
کہ میرے علی کو
ہے مشرک نے مارا
تو تیرے ہی پہلو میں چھپ کر
خدایا خدایا
یہ کیا ہو گیا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ