اردوئے معلیٰ

قتیل شفائی کا یوم وفات

آج معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات ہے

قتیل شفائی(پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء)
مختصر تعارف
———-
پیدائش
24 دسمبر بمقام ہری پور ہزارہ( کے پی کے)
تعلیم :
گورنمنٹ ہائی سکول ( ہری پور ہزارہ)
شادی
1936ء میں ہوئی ۔ اولاد تین بیٹے ( پرویز ، تنویر اور نوید ۔ دو بیٹیاں ۔ مسرت اور ثمینہ)
مشاغل
ادبِ لطیف ” لاہور سنگِ میل” پشاور کی ادارت ابتدائی دور میں
پاکستان رائیٹرز گلڈ مغربی پاکستان کی سیکرٹری شپ آٹھ برس تک پاکستان کی اولین فلم ” تیری یاد” اس کے بعد تاحیات نغمہ نگاری
ادبی اعزاز
مجموعہ کلام ” مُطربہ” پر پاکستان کا اہم ترین ادبی انعام آدم جی پرائز حاصل کیا۔
فلمی اعزاز
مختلف فلموں کے بہترین نغموں پر سولہ ایوارڈ حاصل کیے
نمائیندگی
امریکہ ، برطانیہ ، سوویت یونین ، کینیڈا ، فرانس ، ہالینڈ اور انڈیا کی ادبی اجتماعت میں پاکستان کی نمائیندگی ( مشاعروں کے علاوہ)
تصانیف
ہریالی ( ابتدائی گیتوں کا مجموعہ)
گجر ( نظموں ، غزلوں اور گیتوں کا مجموعہ)
جلترنگ ( نظموں اور غزلوں کا مجموعہ)
روزن ( نظموں اور غزلوں کا مجموعہ)
جھومر ( گیتوں کا مجموعہ)
گفتگو ( غزلوں کا مجموعہ)
چھتار ( نظموں کا مجموعہ)
پیراہن ( غزلوں اور نظموں کا مجموعہ)
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
———-
وفات : 11 جولائی 2001ء
———-
"گھنگرو ٹوٹ گۓ” قتیل شفائی کی آب بیتی سے
———-
قتیل شفائی ایک مکمل اور پُر عزم انسان تھا
عشق کرنے،دوستی نبھانے۔دشمنی پالنے اور دشمنی کو آخری حدوں تک اچھالنے میں،اس نے ہر کام پوری دلجمعی سے کیا۔
قدرت کی ستم ظریفی یا اس کی اپنی بے چارگی دیکھیں کہ وہ اپنی داستان حیات کو مکمل نہ کر سکا۔وہ داستان کا مرکز و محور رہا داستان سرا رہا اور شعروں کو داستانوں میں سموتا رہا۔ایک عزم،حوصلے اور جینے کی لگن کے ساتھ جیتا رہا۔وہ عاشق وارفتہ تھا۔ مگر دامن صاف اور گریباں سلامت تھا۔ہاں دوسروں کی محرومیوں کے چاک سیتا رہا۔وہ خود بھی شاعری کا محبوب رہا اور تمام تر بانکپن کے ساتھ خوب خوب رہا۔اس کی شاعری،اپنے وطن تو کیا،غیر ملک بھارت میں نصاب کا حصہ بنی۔اس کی سحر انگیز شخصیت فلموں کا قصہ بنی۔اس پر یونیورسٹیوں میں تھیسس لکھے گۓ۔رسائل نے خاص نمبر شائع کۓ۔مداحوں نے کتابیں تحریر کیں۔نہایت منظم،مرتب،بااصول اور سلیقے سے زندگی گذارنے والے کو کہیں تو ادھورا ہونا تھا۔بہت کچھ پا کے کہیں تو کچھ نا کچھ کھونا تھا۔سو جب اپنی آب بیتی کہنے اور گذرے برسوں،بیتے لمحوں اور کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ بہنے کا وقت آیا تو کہیں اور الجھ گۓ۔اور یوں یہ کھتا نامکمل رہی اور قتیل شفائی کی زندگی کا سفر مکمل ہو گیا۔گویا۔۔،،، ہمیں سو گۓ داستاں کہتے کہتے۔
یہ ذکر قتیل شفائی کا ہے۔جنہیں اپنےسینیئرز ا ساتھ دینے۔اور اپنے جونئیرز کو ساتھ لے کے چلنے کا کمال بھی حاصل تھا۔
———-
میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ اس لحاظ سے قطعاۤ غیر ادبی اور غیر علمی تھا کہ اس ماحول سے وابستہ لوگ،جن میں میرا اپنا خاندان بھی شامل تھے۔پیسے کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور انہیں اس چیز کا قطعاۤ احساس نہیں تھا کہ علم بھی زندگی کے لیے ضروری ہے اور علم سے آگے بڑھنے والا ایک راستہ ادب بھی ہوتا ہے۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب انگریز کا پرچم اپنی پوری شان کے ساتھ فضا میں لہرا رہا تھا اور لوگوں کو غیر ملکی غلاموں کے ماحول میں اور فکر کم ہوتی تھی پیسہ کمانے کی فکر زیادہ ہوتی تھی یا پھر سرکاری دربار میں رسائی حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرنا ان کا مطمحح نظر ہوتا تھا۔ میرے خاندان کا المیہ یہ تھا کہ ہر شخص تقریباۤ لکھ پتی تھا لیکن تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے کوئی سرکاری دربار میں اوپر تک تو نہیں پہنچ سکا مگر ان پڑھ ہونے کے باوجود مقامی میونسپلٹی کی پریذیڈنٹ شپ تک ان لوگوں میں سے گۓ۔
جب میں پیدا ہوا تو اس وقت مجھ سے پہلے گھر میں کوئی اولاد نہ تھی۔معاملہ یہ تھا کہ میرے باپ نے جب پہلی شادی کی تو کافی عرصہ تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔خاندان کے اور گھریلو مشورے سے انہیں مجبوراۤ دوسری شادی کرنی پڑی۔جس سے 24 دسمبر 1919ء کو میں اپنے آبائی ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوا۔
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیبہ ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یومِ پیدائش
———-
چونکہ یہ میرے والد کی تھی اس لیے میری پیدائش پر بہت جشن منایا گیا۔میری تولید کے تین سال بعد میری بہن پیدا ہوئی اور خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسی دوران پہلی ماں سے بھی بچہ پیدا ہو گیا۔اور وہ ہمارے گھر میں آخری بچہ تھا۔گویا ایک ماں سے دو اولادیں ہوئیں اور دوسری سے ایک جن کی کل تعداد تین بنتی ہے۔میرے والد کی دو شادیوں میں کوئی معاملہ معاشقے۔آوارہ گردی یا عیاشی کا نہیں تھا۔بلکہ ایک ضرورت کے تحت میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔اس لۓ گھریلو ماحول پرسکون رہا اور دونوں مائیں ایک دوسرے کا احترام کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے بچوں سے پیار کرتی تھیں۔اس کے باوجود ظاہر ہے کہ دو شادیوں قباحتیں اپنی جگہ ہیں۔کبھی کبھی وہ پہلو بھی سامنے آ جاتا تھا لیکن عام طور پر حالات خوشگوار ہی رہے۔سواۓ اس کے کہ میرے والد گھریلو اخراجات اور ضرورتوں کے بڑھنے کی وجہ سے کاروبار اور محنت کا سلسلہ بڑھانے پر مجبور تھے اور اس کے علاوہ انہیں ایک اور طرف جانا پڑ گیا جسے ہم شرفاء کی زبان میں اچھا نہیں کہہ سکتے اور وہ کام تھا کارنیوال سیدھے لفظوں میں ہم اسے جوا کہتے ہیں۔یہاں میں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ ہر اچھائی اور برائی کی کچھ سطحیں ہوتی ہیں۔ایک اچھائی کی سطح اتنی گہری ہوتی ہے کہ اچھائی ہونے کے باوجود ہم اسے پسند نہیں کرتے اور ایک برائی کی سطح اتنی بلند ہوتی ہے کہ وہ برائی زیادہ کھلتی نہیں۔میرے والد کا حلقہ احباب بڑے بڑے روساء کا تھا جو اپنے وقت کے میں بہت بڑے سرماۓ سے شغف کرتے تھے۔ان کے ساتھ جنہوں نے کارنیوال کا کاروبار شروع کیا۔اس میں میرے والد سمیت پارٹنر تھے۔اس کاروبار میں انہیں اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی جو کہ پوری طرح جائز کمائی سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔
اس صورت میں میری پرورش ایک امیرانہ ماحول میں ہوئی اور میں ناز و نعم میں پلا لیکن یہ ساری چیزیں ہونے کے باوجود راستے میں ایک قسمت کی دیوار بھی ہوتی ہے۔بچپن میں ہی والد رخصت ہو گۓ جن کے بل بوتے پر یہ ساری عیش و عشرت کی فضا قائم تھی۔ جب تک وہ زندہ رہے انہوں نے میری ہر خواہش پوری کی۔پانچویں جماعت میں جب میں سکول میں بزم ادب کا سیکرٹری بن گیا تو انہوں نے میری پوری کلاس اور متعلقہ اساتذہ کو ایک اچھی خاصی دعوت دے ڈالی جیسے آجکل کوئی کونسلر منتخب ہو جاۓ۔اسی طرح اس زمانے میں مجھے موسیقی کا شوق تھا تو انہوں نے ایک گراموفون اور اس سے متعلقہ مجھے فراوانی سے مہیا کیں۔پھر سیاحت کا شوق ہوا تو جہاں میں نے جانا چاہا انہوں نے اس ہدایت کے ساتھ کہ اچھی کلاس میں سفر کرنا مجھے دوستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ابتدا ہی سے میرے لۓ مشہور تھا کہ میں خوش لباس،خوش گفتار اور خوش خوراک ہوں۔یہ سب چیزیں مجھے میرے والد کی طرف سے ملیں انہوں نے میری تربیت کچھ اس رنگ میں غیر محسوس طور پر کی تھی کہ انہوں نے مجھے زندگی کا قرینہ اور مجلسی آداب سکھاۓ۔جب انہیں محسوس ہوا کہ میرے اندر تھوڑا سا ادب کا بھی شائبہ بھی ہے تو انہوں نے بہت سی ادبی کتابیں بھی مہیا کیں حالنکہ اس دور میں ادبی کتابیں بہت کم ہوتی تھیں۔وہ الف لیلٰی اور حاتم طائی وغیرہ کی کہانیاں اس بہانے سے مجھے پڑھاتے تھے کہ خود بہت کم پڑھے ہوۓ تھے۔وہ مجھے کہتے تھے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لۓ یہ کتاب پڑھ کے مجھ سناؤ اور یوں بہانے سے مجھے پڑھاتے تھے۔
شاعری کی صرف وہی کتابیں میرے ہاتھ آتی تھیں جو گورننمنٹ ہائی سکول ہری پور کی لائبریری میں میسر تھیں۔اس زمانے کے گراموفون ریکارڈوں میں آج کی طرح گھٹیا شاعری نہیں ہوتی تھی بلکہ اساتذہ کا کلام ہی ہوتا تھا۔ میرے پاس جو ریکارڈ تھے ان میں زیادہ تر غالب،امیر مینائی اور ذوق کا کلام تھا۔زیادہ تر گانے والے اساتذہ ہی کا کلام گایا کرتے تھے۔میرے والد چن چن کے کر ایسے ریکارڈ مہیا کرتے تھے جن میں شاعری کا ایک معیار ہوتا تھا اور یوں میری ذہنی پرورش ہوتی رہی۔
———-
"اب اس کتاب سے قتیل شفائی کی چیدہ چیدہ مختصر باتیں ”
———-
چھٹی کلاس میں بھی بزم ادب کے سیکرٹری تھے مضمون نویسی اور شاعری کے مقابلے میں اس مقابلے میں اپنی نظم پر انعام میں ایک کتاب”سوز بیدل”۔بیدلؔ پشاور کے مشہور شاعر تھے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اصغر گونڈوی کا یومِ وفات
———-
والد کی وفات کے بعد ان کی ماں کو رشتے داروں نے مشورہ دیا کہ اسے کاروبار کرا دو۔اس وقت ان کی عمر سولہ سال تھی۔
مختلف کاروبار کراۓ گۓ۔سپورٹس کی دکان اس میں ناکامی کے بعد سائیکلوں کا کاروبار پھر ایبٹ آباد میں بزازی کی دکان جو کہ تیرہ دن بعد بند ہوگئی۔
پھر ان کے ایک رشتے دار نے انہیں میونسپلٹی میں نوکری دلانے کا اور باقی بچی رقم سے اپنے کاروبار میں لگا کر فائدہ پہنچانے کا جھانسہ دیا۔جس میں یہ تو ناکام ہو گۓ اور وہ کامیاب خیر وہ میونسپل میں محرر ملازم ہوگۓ۔مگر ان کے آفیسرز کو ایک چیز کھلتی تھی۔بات یہ تھی کہ ان کے والد کے زمانے کے بہت سارے قیمتی سوٹ پڑے تھے۔جو وہ پہن کے جاتے تھے مکان بھی وہاں کے تمام مسلمانوں سے بڑا تھا۔اس وقت ہر ایک سر پر ٹوپی پہن کے جاتا تھا مگر یہ سر سے ننگے جاتے تھے۔اس بنا پہ آفیسر کو شک بھی ہوا اور اس سے کچھ جھگڑے بھی ہوۓ اور اس نے انہیں جھوٹے کرپشن کے مقدمہ میں جیل بھجوا دیا۔ایک ماہ سے زائد عرصے تک وہ جیل میں رہے۔اور پھر آبرو کے ساتھ جیل سے نکلے اور وہ آفیسر جس نے ان پہ جھوٹا مقدمہ بنایا تھا اس کے خلاف کاروائی ہوئی اور اس کا ٹراسفر کر دیا گیا۔
اس کے بعد قتیل شفائی ہری پور کو خدا حافظ کہہ کے راولپنڈی آ گۓ
شاعری کے پودے کی آبیاری رالپنڈی میں ہوئی اور یہ ایک درخت کی شکل اختیار کرنے لگا۔
اس زمانے میں تلوک چند محروم،عبدالعزیز فطرت۔انجم رومانی،جگن ناتھ آزاد،احمد ظفر،جمیل ملک اور حسن طاہر جیسے لوگ موجود تھے۔ان کے علاوہ وہاں ان کی ملاقات استاد حکیم محمد یحیٰی شفا صاحب سے ہوئی۔جو طب اور علمیت دونوں ہی میں بہت فاضل تھے۔شفا صاحب ان کے رشتے دار بھی تھے۔
وہاں پر ہی انہوں نے پنڈی،مری ٹراسپورٹ کمپنی میں بطور کلرک ملازمت کی۔
جب وہ پنڈی آۓ تو ان کے تین بچے تھے۔ان کے والد دس جون 1935ء کو فوت ہوۓ تھے اور 1936 کے آخر میں ان کی شادی ہوئی اس وقت ان کی عمر سترہ برس تھی۔شادی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔
پنڈی میں شاعری کی محفلوں میں شرکت کی۔اس دوران کچھ ایسے اشعار وارد ہوۓ جو ان کی پہچان بن گۓ
ان میں سے ایک شعر یہ بھی تھا:
———-
گنگناتی ہوئی آتیں ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے
———-
یہ غزل ان کی پہچان کی زینت بنی اس پر پیروڈی بھی ہوئی۔
ماں باپ نے ان کا نام اورنگزیب رکھا تھا۔جب پنڈی آ کے حکیم شفا صاحب کی شاگردی اختیار کی تو انہوں نے اپنا نام قتیل شفائی رکھ لیا۔اس زمانے میں رواج تھا کہ لاہور کا رہنے والا لاہوری۔جالندھر کا رہنے والا جالندھری اور اگر استاد کا نام فاضل ہے تو فاضلی اس لۓ میں نے بھی فیشن کے طور پر شفائی نام رکھا۔ان کے نام کے بارے میں ایک لطیفہ بھی ہے۔وہ یہ کہ ان کا ایک بٰتا انگلینڈ میں رہتا تھا جس کی بیوی سکاٹ لینڈ کی تھی۔ایک دن اس کی بیوی نے اس پوچھا کہ آخر اس نام قتیل شفائی کا مطلب کیا ہے۔تو بیٹے نے وضاحت کی کہ قتیل کا مطلب ہے جسے قتل کر دیا گیا ہو اور شفائی کا مطلب ہے جو دوسروں کو شفا دے۔اس طرح ملا جلا کر اس کا مطلب حضرت عیسٰی بنتا ہے۔
ہری پور کے زمانے میں زیبؔ تخلص تھا
راولپنڈی سے ٹرانسفر ہوکے مری آگۓ تھے۔یہاں ان کی ملاقات پروفیسر کرم حیدری اور فیض احمد فیض سے ہوئی فیض صاحب اسوقت کرنل کے عہدے پر فائض تھے
زندگی کے پہلے مشاعرے پنڈی میں شرکت کی جس کے آرگنائزر شوکت واسطی تھے۔سید ضمیر جعفری نے بھی ان کی بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔13 اکتوبر 1988ء کو انہیں ضمیر جعفری نے خط لکھا۔ پیارے قتیل السلام علیکم!میں جنگ راولپنڈی میں کالم لکھتا ہوں۔ایک تراشا بھیج رہا ہوں۔محبت اپنی جگہ مگر یہ واقعہ جو میں نے لکھا ہے وہ درست ہے،مبارک ہو۔اب واعظان کرام منبر پر آپ کے اشعار پڑھنے لگ گۓ ہیں۔اسے کہتے ہیں جادو کا سر پر چڑھ کے بولنا۔امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔آپ کا ضمیرؔ
جو تراشا انہوں نے بھیجا تھا اس کا عنوان تھا”مجلس وعظ میں قتیلؔ شفائی کی غزل کی اثر آفرینی”اس میں لکھا تھا کہ منبر پر وعظ کے دوران ایک واعظ نے بار بار یہ شعر پڑھا۔۔
———-
چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
———-
ایک زمانے میں انہوں نے اقبال بانو سے عشق کیا تھا جس کے لۓ قتیل شفائی نے خود کو سماجی اور معاشی طور پر برباد کیا تھا۔ٹھوکر کھانے کے بعد بظاہر سنبھل گۓ تھے مگر پھر ایک آدھ ادھوری ملاقات کے بعد یہ گنگنانے لگے تھے۔
———-
بھیج رہی ہے اب تک مجھ کو چاہت کے پیغام
سانولی سی اک عورت جس کا مردوں جیسا نام
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
———-
انہوں نے پچھتر سال کی عمر میں ایک انڈین فلمی اداکارہ سے عشق کیا۔
ان کی آب بیتی میں ذکر ہے کہ عمر کے آخری دو چار برس قتیل شفائی نے نہایت مصروف،بے حد مشغول اور ایک کھلنڈرے اور بے چین عاشق کی طرح گزارے۔۔پچھتر سالہ قتیل شفائی یک بہ یک سترہ اٹھارہ سالہ اورنگزیب بن گیا تھا۔قتیلؔ اپنی شاعری اور مجھ جیسے ان گنت چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔لیکن جسمانی طور پر ہم سے بہت دور چلے گۓ۔ان کی وفات کے بعد ان کی اسی محبوب رشمی کا دعویٰ تھا کہ قتیلؔ میرے لۓ تو مرا نہیں۔۔وہ مرے من میں زندہ و پائندہ رہے گا۔قتیل کی وہ قاتل ان کی تازہ شاعری کا حاصل اور ان کی عمر کے آخری برسوں کے لمحوں کی جھلمل رشمی بادشاہ تھی۔(یا ہے)اس خاتون میں چھا جانے اور دل ہی کیا روح میں بس جانے کا کمال تھا۔وہ خوبصورت ہی نہیں دلکش اور دلپذیر بھی تھی۔رشمی نے قتیلؔ کو یقین دلایا تھا کہ اب نہیں وہ پچھلے جنم میں بھی وہ قتیلؔ کی دیوانی اور داسی رہی ہے۔اور پھر قتیل شفائی نے نظم کہی۔۔
” اب میں بھی جنموں کا قائل ہوتا جاتا ہوں
———-
11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
———-
منتخب کلام
———-
یوں آرہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام
ہم پڑھ رہے ہوں جیسے چُھپا کر کسی کا نام
سُنسان یُوں تو کب سے ہے کُہسارِ باز دِید
کانوں میں گوُنجتا ہے برابر کسی کا نام
دی ہم نے اپنی جان تو قاتِل بنا کوئی
مشہُور اپنے دَم سے ہے گھر گھر کسی کا نام
ڈرتے ہیں اُن میں بھی نہ ہو اپنا رقیب کوئی
لیتے ہیں دوستوں سے چُھپا کر کسی کا نام
اپنی زبان تو بند ہے، تم خود ہی سوچ لو
پڑتا نہیں ہے یونہی سِتمگر کسی کا نام
ماتم سَرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غَرَض قتیل
اپنے غموں پہ روتے ہیں لے کر کسی کا نام
———-
وہ دل ہی کیا جو ترے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے
زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے
———-
ڈھل گیا چاند ، گئی رات ، چلو سو جائیں
ہو چُکی اُن سے ملاقات ، چلو سو جائیں
دُور تک گُونج نہیں ہے کِسی شہنائی کی
لُٹ گئی اٌس کی ہے بارات ، چلو سو جائیں
لوگ اِقرارِ وفا کر کے بُھلا دیتے ہیں
یہ نہیں کوئی نئی بات ، چلو سو جائیں
شام ہوتی ، تو کِسی جام سے جی بہلاتے
بند ہیں اب تو خرابات ، چلو سو جائیں
اِتنے چھینٹوں سے بھی دھویا نہ گیا داغِ الم
کیا کہے گی ہمیں برسات، چلو سو جائیں
جو ہے بیدار یہاں ، اُس پہ ہے جینا بھاری
مار ڈالیں گے یہ حالات ، چلو سو جائیں
ہم نے کیا کچھ ، نہ سرِ شام کہا تم سے قتیل !
آخرِ شب نہ مَلو ہاتھ ، چلو سو جائیں
———-
محبت میں غلط فہمی اگر الزام تک پہنچے
کسے معلوم کس کا نام کس کے نام تک پہنچے
تیری آنکھوں کے ٹھکرائے ھوئے وہ لوگ تھے شاید
جو اک شرمندگی ھونٹوں پہ لے کر جام تک پہنچے
سبھی رستوں پہ تھے شعلہ فشاں حالات کے سورج
بہت مشکل سے ھم ان گیسوؤں کی شام تک پہنچے
کسی نے بھی نہ اپنی دھڑکنوں میں دی جگہ جن کو
وہ سارے ولولے میرے دل نا کام تک پہنچے
سجا کر آئیں جب سونے کا چشمہ اپنی آنکھوں پر
نظر ھم مفلسوں کی تب کہاں اس بام تک پہنچے
قتیل آئینہ بن جاؤ زمانے میں محبت کا
اگر تم چاہتے ھو شاعری الہام تک پہنچے
———-
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
اُس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہُوں
لو خریدو اِک نظر کے مول مجھ کو
اپنی قیمت میں رعایت کر رہا ہُوں
لی ہے ضبط نے مجھ سے اجازت
اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہا ہوں
چِھن گیا مُلکِ جوانی بھی تو کیا غم
اب بھی یادوں پر حکومت کر رہا ہوں
کوئی بھی غم اُس کو لوٹایا نہیں ہے
یوں امانت میں خیانت کر رہا ہوں
اُس نے تو بس اک ذرا سی بات چھیڑی
میں وضاحت پر وضاحت کر رہا ہوں
عشق کر کے آپ بھی بن جائیں انساں
شیخ صاحب کو نصیحت کر رہا ہوں
عاشقی طوفان گریہ چاہتی ہے
اور میں آہوں پر قناعت کر رہا ہوں
آسماں جو شخص ہے سب کی نظر میں
اُس کو چھو لینے کی جُرات کر رہا ہوں
میں نے دیکھا ہے قتیلؔ اُ س کا سراپا
میں کہاں ذکرِ قیامت کر رہا ہوں
———-
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ پیدائش
———
آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا
مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں
جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر گیا
کچھ ہی برس کے بعد تو اس سے ملا تھا میں
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا
ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا
لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
"مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا”
———-
ہاتھ دیا اس نے مرے ہات میں
میں تو ولی بن گیا اک رات میں
عشق کرو گے تو کماؤ گے نام
تہمتیں بٹتی نہیں خیرات میں
شام کی گلرنگ ہوا کیا چلی
درد مہکنے لگا جذبات میں
ہاتھ میں کاغذ کی لیے چھتریاں
گھر سے نہ نکلا کرو برسات میں
ربط بڑھایا نہ قتیلؔ اس لیے
فرق تھا دونوں کے خیالات میں
———-
غمِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
کسی کی یاد میں جو زندگی ہم نے گزاری ہے
ہمیں وہ زندگی اپنی محبت سے بھی پیاری ہے
وہ آئیں روبرو ہم داستاں اپنی سنائیں گے
کچھ اپنا دل جلائیں گے کچھ ان کو آزمائیں گے
سرِ محفل ہمیں تو شمع بن جانا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
دبے پاؤں ہمیں آ کر کسی کا گدگدا دینا
وہ اپنا روٹھ جانا اور وہ ان کا منا لینا
وہ منزل جھانکتی ہے آج بھی یادوں کی چلمن سے
بھلا سکتا ہے کیسے کوئی وہ انداز بچپن کے
ہمیں گزری ہوئی باتوں کو دہرانا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
ہمیں آتا نہیں ہے پیار میں بے آبرو ہونا
سکھایا حسن کو ہم نے وفا میں سرخرو ہونا
ہم اپنے خونِ دل سے زندگی کی مانگ بھر دیں گے
یہ دل کیا چیز ہے ہم جان بھی قربان کر دیں گے
خلافِ ضبطِ الفت ہم کو مر جانا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
———-
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے
پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیے
پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے
کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے
اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس
یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے
شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو
آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے
———-
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا
اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا
انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا
حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا
اس بندہء خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
جو بھوک میں بھی لقمہء تر پر نہیں گرتا
کرنا ہے جو سر معرکہِ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا
قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
———-
پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
یہ کیسی رازداری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں بھی نیند آجائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
———-
حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے
ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکن
نظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے
نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کو
وہ جلوہ، جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے
ترے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے
اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے
خدا کا گھر سمجھ رکّھا ہے اب تک ہم نے جس دل کو
قتیل اس میں بھی اک بُتخانہ بن جائے تو کیا کیجے
———-
اہنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں ہوں گر پھول تو جُوڑے میں سجا لے مجھ کو
میں کُھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
ترکِ الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے، مجھ کو
مجھ سے تُو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے ترا، آج ستا لے مجھ کو
باندھ کر سنگِ وفا کر دیا تو نے غرقاب
کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو
———-
کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں
سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں
ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنام عظمت کردار آؤ سچ بولیں
سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے
پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں
تمام شہر میں کیا ایک بھی نہیں منصور
کہیں گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں
بجا کہ خوئے وفا ایک بھی حسیں میں نہیں
کہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں
جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار آؤ سچ بولیں
چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہرے کے
نظر ہے آئنہ بردار آؤ سچ بولیں
قتیلؔ جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار آؤ سچ بولیں
———-
شاعری سچ بولتی ہے
لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
تیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہو
واقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہو
تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
یہ بھی کیا بات کہ چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں
گر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروں
جب کسی بات کو دنیا کی نظر تولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے اس فکر میں کاٹیں کئی راتیں کئی دن
میرے شعروں میں ترا نام نہ آے لیکن
جب تیری سانس میری سانس میں رس گھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
تیرے جلووں کا ہے پر تو میری اک ایک غزل
تو میرے جسم کا سایا ہے تو کترا کے نہ چل
پردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ