اردوئے معلیٰ

محمد ابنِ عبد اللہ قریشی

محمد ابنِ عبد اللہ قریشی

محمد نورِ چشمِ آمنہ بی

 

خدا کا آخری دنیا کا ہادی

کوئی ہمسر نہ اس کا کوئی ثانی

 

محمد ہی سے ہے فیضانِ ہستی

ہے اس کا مسلکِ حق، حق پرستی

 

ہے سب نبیوں پہ اس کی بالادستی

خدا کی اس پہ رحمت ہے برستی

 

محمد مجتبیٰ ہے مصطفیٰ ہے

زمانہ مقتدی وہ مقتدا ہے

 

وہ ختم المرسلیں وہ پیشوا ہے

خوشا قسمت حبیبِ کبریا ہے

 

حبیب اللہ ہے وہ کملی والا

زمیں سے عرش تک اس کا اجالا

 

مصافِ حق میں اس کا بول بالا

محمد عزم و ہمت کا ہمالا

 

مداوائے غم و اندوہ و حرماں

وہ ہے چارہ گرِ ہر دردِ انساں

 

محمد واقفِ اسرارِ پنہاں

محمد مہبط و تفسیرِ قرآں

 

محمد منبعِ علم و حِکم ہے

محمد چشمۂ فیض و کرم ہے

 

محمد حق کی شمشیرِ دو دم ہے

محمد حسنِ تقدیرِ امم ہے

 

محمد فائزِ عرشِ معلّیٰ

محمد کا شرف یہ اللہ اللہ

 

محمد شاہدِ برقِ تجلّیٰ

ارے وہ کیا نہیں ہے ماسوی اللہ

 

زبانِ خلق پر صلِّ علیٰ ہے

محمد سب کے دل کا مدعا ہے

 

محمد شافعِ روزِ جزا ہے

محمد جس کا ہے اس کا خدا ہے

 

"​عزیزی انتَ لی انتَ الحبیبی”​

تمہیں سے ربط ہے دل کا قریبی

 

"​انا سائل لَکَ انتَ المجیبی”​

نظرؔ نازاں ہے بر ایں خوش نصیبی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ