موت کا سر پہ تاج لینا ہے

موت کا سر پہ تاج لینا ہے

زندگی سے خراج لینا ہے

 

وہ سخی ہے نواز دے شاید

بے کلی کا علاج لینا ہے

 

تجھ لئے دل تو کیا ہے جاں حاضر

کر ذرا احتجاج لینا ہے

 

آنکھ اُکتا گئی اندھیروں سے

روشنی کو رواج لینا ہے

 

کل کا کیا اعتبار ہے اشعرؔ

جو بھی لینا ہے آج لینا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے