پِھر ترازُو ہو گیا یادوں کا چھرّہ جِسم میں

پِھر ترازُو ہو گیا یادوں کا چھرّہ جِسم میں

اور پُورا کھود ڈالا ایک درّہ جِسم میں

 

عِشق موروثی تھا، مُجھ سے کیسے تُجھ کو لگ گیا؟

مُجھ کو والد سے مِلا تھا ایک زرّہ جِسم میں

 

ذہن و دِل میں لا کے رکھا، پر چُھوا ہرگِز نہیں

میں نے خُود سے بھی تُجھے رکھّا مبرّا جِسم میں

 

وصل میں بھی ایسے دم نِکلا کہ جیسے ہو وِصال

زور سے بجنے لگا سانسوں کا خرّہ جسم میں

 

پیار تیری روح سے تھا، روح سے ہی صرف کیوں؟

عمر بھر جاری رہا اِس پر تبّرا جسم میں

 

اِس سے پہلے کہ بدن ٹُوٹے نشے کے ساتھ ساتھ

رُوح میں تُجھ کو اُتارا اور ٹھرّا جِسم میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ