پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق

پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق

ہر اک ورق پہ نمایاں تھا کارنامہِ عشق

 

مجال قافیے کی کیا کہ مجھ سے پوچھ سکے

کہ میں نے حل کیا کیسے سوالنامہِ عشق؟

 

یہ روز شب کی کہانی بیان کرتا ہے

یہ تیرا چہرہ نہیں ہے، ہے روزنامہِ عشق

 

اور اس سے قبل کہ تم دستخط کرو، ٹھہرو

بہت ہیں سخت شرائط بہ عہد نامہِ عشق

 

وہ جس کو عشق نہیں، شہر سے نکل جائے

ہوا ہے آج ہی جاری یہ حکم نامہِ عشق

 

مجھے یقیں ہے مورّخ! مری محبت پر

ضرور لکھے گا اک روز شاہنامہِ عشق

 

ہمیں بتا تو سہی دل کے دام کتنے ہیں؟

ذرا پتہ تو چلے کیا ہے نرخ نامہِ عشق

 

خدا کے عشق سے یہ سلسلہ چلا ہے امیر

بڑا ہی برکتوں والا ہے نسل نامہِ عشق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ھے
تِرے علاقوں پہ یار قبضہ بزورِ طاقت نہیں کرینگے
جدائیوں کے زمانے کب تک؟ نجانے کب تک
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
گرچہ مہنگا ہے مذہب ، خدا مُفت ہے
جاہ و حشم نہ لعل و جواہر کی بات ہے
اک کرب ِ لا دوا ہے کہ جاں چھوڑتا نہیں
راکھ ہوتے ہوئے ہاتھوں کی جلن ایک طرف
تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے