ہم زیست کے شکاروں کی حسرت نکل گئی

ہم زیست کے شکاروں کی حسرت نکل گئی

جب زیست خود بھی ہو کے شکارِ اجل گئی

 

اللہ یہ زمانے کو کیا روگ لگ گیا

اپنے ہوئے ہیں غیر ہوا کیسی چل گئی

 

کوچہ ہے کس کا صاحبِ کوچہ یہ کون ہے

دنیا بہ اشتیاق جہاں سر کے بل گئی

 

کیسی خوشی؟ کہاں کی خوشی؟ اے مرے ندیم

صورت ہماری غم ہی کے سانچہ میں ڈھل گئی

 

لب بند، آنکھ بند، خرد گم، حواس گم

یہ زندگی تو موت سے آگے نکل گئی

 

الفت نہیں ہے موجبِ الفت اس عہد میں

تھی وہ جو اک حقیقتِ ضرب المثل گئی

 

ہم زیست کی حقیقتِ پنہاں کے ترجماں

کیا ہم بدل گئے تو حقیقت بدل گئی

 

آنکھوں میں سب کی ڈھونڈتے پھرتے ہو کیا نظرؔ

ایماں کا جزو یعنی حیا آج کل گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ