اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر آسی الدنی کا یوم وفات ہے

آسی الدنی(پیدائش: 1893ء- وفات: 10 جنوری، 1946ء)
——
آسی الدنی (1893) اردو کے ایک شاعر تھے۔ اصل نام عبدالباری اور تخلص آسی ، منشی حسام الدین احمد حسام کے صاحبزادے جو مرزا غالب ابن مولوی شیخ خدا بخش عاجز کے شاگرد تھے۔ الدن تحصیل ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ 1898 میں سلسلہ تعلیم والد سے شروع کیا۔ آسی الدنی نے فارسی کی تکمیل لموکوی حافظ برکت علی سے کی اور عربی کی سید سراج احمد صاحب سراج مرحوم سے ، کتب حدیث و فقہ کا مطالعہ مولانا محمودحسن صاحب سے کیا۔ 1908ءمیں دہلی میں حلیم نواب جان مرحوم سے طبی کتب پڑھیں۔1910 سے 1912 تک شا هجہا نپور میں فارسی پڑھانے پر مامور رہے۔ 1914 تک مولانا محمدعلی کے اخبار ہمدرد دہلی میں کام کرتے ہے۔ 14 دسمبر1912 میں لکھنؤ چلے آئے اور پھروہیں ر ہے۔ اسی الدنی نے 1907ء میں اس شعر سے اپنی شاعری کا آغاز کیا ۔
——
کیا تم نے زخمی کیا دل ہمارا
بڑا تیر مارا ، بڑا تیر مارا
——
1906 تک بغیر کسی تخلص کے مشق جاری رہی۔ ایک دوست نے عاصی تخلص تجویز کیا۔ ابتدا میں مولانا سراج احمد صاحب کی طرح پر طبع آزمائی کی۔ ان کے والد صاحب کو پتا چلا تو انھوں نے اصلاح دینا شروع کی ۔ خود لکھتے ہیں کہ ابتدا میں بیشتر فارسی کے دیوانوں اور اپنے دادا مرحوم کے دیوان کا مطالعہ کرتے رہے ،ان کے بعد دیوان غالب اپنے والد سے پڑھا۔19 10 میں داد میں مولانا سیدابوالحسن صاحب ناطق سے اصلاح لینا شروع کی۔ انھوں نے اپنا نخلص آسی رکھا ۔ مولانا صاحب مرزا داغ کے شاگرد تھے۔ آپ نے مرزا داغ سے بھی دو غزلوں پر اصلاح لی تھی۔
شاعری میں آپ نے مختلف مکاتیب کا اتباع کیا۔ابتدا میں ناسخ کے رنگ پر بہت سی غزلیں کہیں۔ بعد میں مولانا حالی ان پر چھا گئے۔ ایہام کی طرف بھی مائل رہے پھر داغ اور غالب کے رنگ میں بھی غزلیں کہیں۔ 1913 سے 1915 تک کا زیادہ تر کلام داغ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ بعد ازاں اپنا الگ رنگ بنانے کی کوشش کی جس میں کامیاب رہے۔ غزل قصیدے نظم مثنوی اور رباعیات میں آپ کا کلام کافی ہے۔ لیکن ان میں سے صرت قطعات و رباعیات کا مجموعہ” بصائر “ طبع ہوا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر آسی غازی پوری کا یوم پیدائش
——
شاعری کے علاوہ آسی الدنی نے نثر کی طرف بھی خاصی توجہ دی۔ عام تصانیف کی تعداد تیس سے اوپر ہے۔ ان میں سے اکثر ناول ہیں۔ شرح دیوان غالب ، شرح تحفة العراقين ، ترجمہ وشرح دیوان حافظ، ترجمه فرہنگ آنندراج ،لغت اردو میں تین تذکرے خاص چیزیں ہیں۔
آسی الدنی کے شاگردوں کی تعدادڈیڑھ سوتک پہنچتی ہے۔ ان میں شوکت تھانوی ، زخمی لکھنوی ، آزاد لکھنوی ، اسد الہ آبادی اور امین سلونوی قابل ذکر ہیں۔
——
منتخب کلام
——
بیکار کوئی چیز نہیں زمانے میں
حتیٰ کہ موت بھی ہے مری زندگی کا راز
——
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
——
کہتے ہیں کہ امید پہ جیتا ہے زمانہ
وہ کیا کرے جس کو کوئی امید نہیں ہو
——
مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں
وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں
——
بیتاب سا پھرتا ہے کئی روز سے آسیؔ
بیچارے نے پھر تم کو کہیں دیکھ لیا ہے
——
عشق پابند وفا ہے نہ کہ پابند رسوم
سر جھکانے کو نہیں کہتے ہیں سجدہ کرنا
——
الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہے
غم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہے
ہر شمع کو بزم دہر میں اے آسیؔ
جلنے ہی کے بعد روشنی ملتی ہے
——
ظالم دم نزع نہ آیا افسوس
افسانۂ غم نہ سننے پایا افسوس
تھی جذبۂ دل سے ہم کو آسیؔ امید
افسوس عجب فریب کھایا افسوس
——
یہ بھی پڑھیں : دنیا کے مشہور ترین شاعر مرزا غالب کا یوم پیدائش
——
بیخود بھی ہیں حیران بھی ہیں انجان بھی ہیں
عاقل بھی ہیں ، عالم بھی ہیں ، نادان بھی ہیں
نیرنگیٔ جلوہ ہائے اصنام کو دیکھ
بت خانے میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں
——
دعویٰ جو رہِ عشق میں کافی ہو جائے
تقریر جو وجہِ سینۂ صافی ہو جائے
جو دار پہ چڑھ جائے وہ منصور بنے
ج وبرہنہ پا ہو بشر ، حافی ہو جائے
——
ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں
مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں
بجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو
سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں
مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں
وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں
اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسیؔ
اشارے میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات
——
قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی
آشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھا
واہمہ خلاق اور آزادی حسن افزا سرور
ہر فریب رنگ کا پہلے گلستاں نام تھا
ضعف آہوں پر بھی غالب ہو چلا تھا اے اجل
تو نہ آتی تو یہ میرا آخری پیغام تھا
دیدۂ خوننابہ افشاں میرا ان کے سامنے
بے خودی کے ہاتھ سے چھوٹا ہوا اک جام تھا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ