اردوئے معلیٰ

آج اردو کے ممتاز ادیب احمد داؤد کا یوم وفات ہے

احمد داؤد(پیدائش: یکم جون 1948ء — وفات: 12 دسمبر 1994ء)
——
احمد داؤد یکم جون 1948ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شمار اردو کے جدید افسانہ و ناول نگاروں میں ہوتا تھا۔
ان کی تصانیف میں افسانوی مجموعے، مفتوح ہوائیں، دشمن دار آدمی، خواب فروش اور ناول رہائی شامل ہیں۔
احمد داؤد 12 دسمبر 1994ء کو راولپنڈی میں وفات پا گئے اور قبرستان موہن پورہ، کشمیر بازار، راولپنڈی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
——
تنقید و آرا
——
حسن عباس رضا
——
احمد داؤد کی کہانیاں اپنے موضوعات کے تنوع اور اسلوب و تکنینک کے حوالے سے مخصوص تاثر رکھتی ہے ۔ میں اُس کے افسانے اپنے گنے چنے پسندیدہ شاعروں کے کلام کی طرح پڑھتا ہوں ۔
——
نثار ناسک
——
ایک ایسے عہد میں جب افسانہ گنبدِ بے ہنگم اور لا یعنی آوازوں سے بھرا ہوا ہے ۔ احمد داؤد کی توانا اور تنومند آواز اس شور سے بڑبڑاتے ہوئے قاری کو دلاسا دیتی ہے ۔ تشکیک ، بے یقینی اور اجتماع کے بحران میں احمد داؤد ایک طرف تو پرانی دیمک زدہ حویلیوں کی درزیں اور دراڑیں کھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف اپنے عہد کی ہولناک صداقتوں کے اظہار میں جدید ترین فکری اور تاریخی تلازمے کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اردو کے صف اول کے افسانہ نگار ابوالفضل صدیقی کا یومِ پیدائش
——
میرے عصر میں ایسے افسانہ نگار انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں جنہوں نے جتنے افسانے لکھے ہوں سب کے سب فن اور تخلیق کے اعلیٰ پیمانوں پہ پورے اترتے ہوں ۔
احمد داؤد بلاشبہ اگر چاہے تو اپنی اس صلاحیت پہ فخر بھی کر سکتا ہے ۔
——
رشید امجد
——
1970 کے بعد افسانہ نگاروں میں سب سے توانا ، بھر پور اور صاحبِ اسلوب آواز احمد داؤد کی ہے ۔ اس نے نئے افسانے کو نظریاتی چہرگی کےساتھ ساتھ تاریخی اور ثقافتی ذائقہ سے ہم آہنگ کیا ۔
طنز کی تیز کاٹ ، جھٹکا دیتے ، چٹکیاں کاٹتے جملے ، دبیز علامتیں ، متحرک امیجز اس کے بھر پور مشاہدے ، زیرکی اور تاریخی شعور کا پتہ دیتے ہیں ۔
انسانی رشتوں کا المیہ ، معروضی دکھ اور اجتماعی ٹوٹ اس کی کہانیوں میں عہد کی گواہی دیتے اور سانس لیتے ہیں ۔
بیانیہ میں نئے تجربے کرنے ، شعری اور نثری زبان کے فرق کو مٹانے اور افسانے کی نئی زبان کی تشکیل میں اس کے افسانے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔
——
محمد علی صدیقی
——
احمد داؤد جدید اردو افسانے کا سربر آوردہ نام ہے ۔ اس کا تخلیقی سفر تیز ، دلچسپ اور نتیجہ خیز ہے ۔ احمد داؤد نے چابک دستی کے ساتھ نظریہ اور فن کے مابین وسیع سے وسیع تر ہوتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کی کامیاب سعی کی ہے ۔
اس کا تازہ ترین مجموعہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس نے جدید اردو کو ہم عصر معنویت سے ہم رشتہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ دوسروں کے لیے قابلِ تقلید فنکار بن کر ابھرا ہے ۔
——
اقبال آفاقی
——
احمد داؤد کی کہانیوں کا دروبست توانا تجسس ، معنی خیز تحیر کے ساتھ ساتھ ، فراواں قوت ، ادراک کا آئینہ دار ہے ۔
کہانی اس کے لیے منقسم اور مسطح لکیروں کے مابین تشکیل پانے والا سیناریو ہرگز نہیں کہ ناظر و منظور کی مثنوی حد بندی کا ایجاب اس کے ہاں لایعنی مفروضہ ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اس کے دائرہ بصیرت سے کنکریٹ کی بہت سی تدبیریں ٹوٹ کر پیچھے رہ جاتی ہیں ۔
ذات کی تیسری کھونٹ کی بازیافت میں اس کا طریقِ کار یہ ہے کہ وہ کسی ایک مقام پر ارتکاز کی بجائے ناظر ، منظور اور تناظر ، تتلیث کے تینوں اطراف سے واردات کے بطن میں اترتا ہے ۔
تتلیث کے ان تینوں زاویوں کے محیط میں کائنات لاتعداد کبیر و صغیر آئینوں کا سحر کار منظر نامہ ہے ۔ بہت سے واہمے ، اور التباس ، بدلتی بگڑتی مکروہ صورتیں ، فوٹو جینک چہرے ، محدب اور مقعر عدسے طویل ہوتی پرچھائیاں ، چٹختے خواب ، عکس و معکوس مناظر ، میں کے عقب میں میں داخلی دنیا اور خارج کی جسمی زندگی کا تصادم اور کرتا ، بھوگتا جؤ ، یہ سب مرحلے ہیں جن سے احمد داؤد اپنی راہیں تراشتا ہے ۔
یوں اس کے افسانوں میں کہانی کا انقطاع ناممکن تصور ہے کہ کہانی تو اس کے فنی رابطوں اور قرینوں میں معتبر وصف ہے ۔
تاہم زبان کا مانوس سیاق و سباق ، صرف و نحو کی غلام گردشیں اور سابقوں اور لاحقوں کے گھیراؤ میں لسانی ہیئتیں پسماندہ روایتیں ہیں ۔
احمد داؤد تشبیہی اور تلازمائی منطق کی عمومیت زدہ راہ سے ہٹ کر تجربے کو قدرتی لسانی آہنگ سے ہمکنار کرتا ہے ۔
تیز اور نوکیلا قدرتی لسانی آہنگ ۔ ظاہر ہے پتھر ہوتی تنقید کے لیے احمد داؤد کی اس جرأتِ رندانہ کو ازنِ بازیابی بخشنا ناقابلِ فہم ہے ۔
——
اختر حسین جعفری
——
احمد داؤد ناقابلِ تفہیم اور داخلی تضادات سے پُر معاشرے کی تفہیم کا ادیب سے اس کا لفظ جدید تر ہونے کے باوجود مروجہ تکنیکی رویوں سے یکسر مختلف اور منفرد سے لفظ کی ایک حرکی Dynamic نظامِ تشکیل پیدا کرنے کی تکنیک میں اس کی نسل کا ایک بھی کہانی کار اس سے آگے نہیں ۔
——
اصغر ندیم سید
——
احمد داؤد کا افسانہ انسانی کتھا کی واردات کا تسلسل ہے ۔ اس لیے تاریخ ، ثقافت ، تہذیب اور اجتماعی یاد میں اس کی جڑیں دور تک پھیلی ہیں مگر اس کی دنیا فرد ، اجتماع ، قوم اور عالمی انسانیت کے گروہ در گروہ اندیشوں اور عذابوں سے ترتیب پاتی ہے ۔
اس لیے اتنے بڑے کینوس پر تاریخ ، تہذیب ، اور ثقافت کے نام پر دھوکہ ہی کو احمد داؤد بغی رنوٹس لیے جانے نہیں دیتا ۔
اس کے افسانے کسی ذاتی محرومی اور خود اذیتی کے تجربے کا شاخسانہ نہیں ۔ وہ کلیت کے ساتھ اپنے عہد کے متعلق تجربے کے نتائج اور عصری واردات کے گہرے اثر کو انسانوں میں مخصوص اسلوب سے پیش کرتے ہیں ۔ یہ مخصوص اسلوب ان کے مزاج کی انفرادیت ہے ۔
غیر مبہم طنز ، واضح نقطۂ نظر اس اسلوب کو ایک با یقین اور پر اعتماد مزاحمت کرنے والے کردار کا لہجہ عطا کرتا ہے ۔
احمد داؤد وسیع تناظر میں فکری اور تہذیبی مسائل پر واردات اور کتھا کی زبان میں سوچنے والا افسانہ نگار ہے ۔ اور یہی آج کے افسانے کی پہچان ہے ۔
——
حوالہ جات :
کتاب : دشمن دار آدمی از احمد داؤد
شائع شدہ : 1983 ، صفحۂ اول ، صفحہ آخر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات