سرخوش از نالۂ مستانۂ سعدیست رہی
ہمہ گویند ولے گفتۂ سعدی دگر است سعدی کے نالۂ مستانہ سے رہی مسرور و سرمست و سرخوش ہے سبھی (کلام) کہتے ہیں لیکن سعدی کا کہا ہوا کچھ اور ہی ہے
معلیٰ
ہمہ گویند ولے گفتۂ سعدی دگر است سعدی کے نالۂ مستانہ سے رہی مسرور و سرمست و سرخوش ہے سبھی (کلام) کہتے ہیں لیکن سعدی کا کہا ہوا کچھ اور ہی ہے
دہلی میں اردو غزل سے تخلیقی دلچسپی کا آغاز دیوانِ ولی کے اثر سے ہوا۔ میر اور سودا سے پہلے جن شعرا کو خصوصیت کے ساتھ نام وری ملی اور جنھوں نے اردو غزل کے خد و خال کو سنوارا اور نکھارا، ان میں سراج الدین خان آرزو کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سراج الدین […]
تو میوۂ سرِ شاخِ بلند را چہ خبر اُمیدوں اور آرزؤں کا وہ دامن کہ جو ہم تہی دست پھیلائے ہوئے کھڑے ہیں تُو کہ بلند و بالا، اونچی شاخ کا میوہ ہے تجھے اس پھیلے ہوئے دامن کی کیا خبر
سرکار کا روضہ یاد رہا دنیا کا فسانہ بھول گئے سرکار دو عالم کے در پر جس وقت پڑی بیتاب نظر آقا کی ثنا لب پر آئی ہر ایک ترانہ بھول گئے جب پہنچے مواجہ پر ان کے اک کیف میں ایسا ڈوب گئے جو حال سنانا تھا ان کو وہ حال سنانا بھول گئے […]
کہ میں یہاں ہوں، مِرے مصطفے مدینے میں سُنا ہے رحمتِ پرور دگارِ عالم بھی برستی رہتی ہے بن کر گھٹا مدینے میں چلو مدینے چلیں، ہوں گی مشکلیں آساں ہیں دو جہاں کے مشکل کشا مدینے میں مری نظر میں بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دیکھتے ہیں درِ مجتبیٰ مدینے میں درِ […]
بی بی آمنہ کے پھول اللہ ہی اللہ جب کہ سرکار تشریف لانے لگے حور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے ہر طرف نور کی روشنی چھا گئی مصطفیٰ کیا مِلے زندگی مِل گئی اے حلیمہ تیری گود میں آگئے دونوں عالم کے رسول اللہ ہی اللہ چہرہِ مصطفیٰجب دِکھایا گیا چھپ گئے تارے اور […]
قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا سر ہے اب تو دھونی رما کے بیٹھے […]
کیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی بھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے تم نے عجب انداز کی رفتار نکالی دھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو آواز شب وصل نہ زنہار نکالی ہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا گر لاش ہماری سر بازار نکالی آخر مری تربت سے اگی […]
کچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے دل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر دیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے فرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت خوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے کوچے میں نہ آئے کوئی میں جان گیا ہوں […]
خود نغمہ می سرایم و خود گوش می کنم میں اپنے بند اور خاموش لبوں سے اپنے ساتھ ہی باتیں کرتا ہوں یعنی خود ہی نغمہ سرائی کرتا ہوں اور خود ہی سنتا ہوں