اے دیر بدست آمدہ بس زُود برفتی
آتش زدی اندر من و چوں دُود برفتی اے کہ تُو بہت دیر کے بعد مجھے ملا اور بہت جلد ہی چلا گیا تُو نے میرے جسم و جان کے اندر آگ لگا دی اور خود دھوئیں کی طرح چلا گیا
معلیٰ
آتش زدی اندر من و چوں دُود برفتی اے کہ تُو بہت دیر کے بعد مجھے ملا اور بہت جلد ہی چلا گیا تُو نے میرے جسم و جان کے اندر آگ لگا دی اور خود دھوئیں کی طرح چلا گیا
فارغ نشیں کہ بر دہِ ویراں خراج نیست اہلی، یہ مت کہہ کہ (عشق کی وجہ سے) عقل و دل و دین سب کچھ چلا گیا (اور عشق نے مجھے ویران کر دیا) بلکہ مطمئن ہو جا کیونکہ ویران زمین پر کسی بھی قسم کا کوئی خراج نہیں ہوتا یہ شعر بالخصوص پہلا مصرع تغیرات […]
زندگی روشنی كا سفر ہو گئی اِک تبسّم كیا سو اُجالے كِھلے ظلمتِ شب مٹی اور سحر ہو گئی جب تصوّر كیا گنبدِ سبز كا دل معطّر ہُوا آنكھ تر ہو گئی اُن كی یادوں كا جواستعارہ بنی وہ گھڑی عمر كی معتبر ہو گئی ناتوانوں میں تاب و تواں آگیا رہبری آپ كی چارہ […]
ایں آتشِ عشق است، نسوزد ہمہ کس را اہلِ ہوس (محبت کے جھوٹے دعوے داروں) کو محبت کے سوز اور جلن کی کیا خبر اور اس کا علم کیسے ہو؟ کہ یہ عشق کی آگ ہے یہ ہر کسی، ہر کہ و مہ کو نہیں جلاتی۔
آنے لگیں صدائیں درود و سلام کی ہر چیز ان کے واسطے تخلیق کی گئی کیا شان ہے رسول علیہ السلام کی جس نے نبی کی یاد کو دل میں بسا لیا اللہ نے اس پہ آتش دوزخ حرام کی اللہ جانتا ہے محمد کا مرتبہ انسان کو خبر کہاں ان کے مقام کی سرکار […]
ولی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں اب تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔ ولی دکنی کے نام، ان کے آبائی وطن اور حتٰی کہ اُردو شاعری میں اُن کا باوا آدم ہونے میں بھی تذکرہ نگاروں کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ولی دکنی کے نام سے متعلق بھی ابہام پایا […]
چلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہے
درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی
زاہد نشستہ پرسشِ فرسنگ میکند عاشق، کبعۂ مراد کی راہوں میں اپنی جان نثار کر کے چلا بھی گیا اور زاہد ابھی بیٹھا ہوا، فاصلوں کے حساب کتاب اور پوچھ گچھ ہی میں مگن ہے
ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل