کریم ! تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے
ہے اپنا دامن عمل سے خالی ‘ تِرے کرم پر نظر لگی ہے جو تیرے در کی ملے غلامی ‘ زمانے بھر کی ہے نیک نامی یہی عبادت ہے در حقیقت ‘ یہی حقیقت میں بندگی ہے نہ ملتا مجھ کو ترا گھرانا تو کون سنتا مِرا فسانہ ’’رہے سلامت تمہاری نسبت ‘ مِرا تو […]