طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان

اُس پہ مری سرسبز زمینوں کے دامن قربان اُس وادی پہ کاغان اور کالام کا حُسن نثار اُس پہ مری اور شنگریلا کے سُندر بَن قربان اُس پہ شجاع آباد کے اور ملتان کے باغ فدا اُس پہ چَوّا سَیدن شاہ کے سارے چمن قربان میرے وطن میں دریاؤں اور نہروں کا اِک جال اُس […]

شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ

شہر طیبہ کے در و بام سے باندھے ہوئے رکھ میں ہوں جیسام جھے اس نام سے باندھے ہوئے رکھ میں بھی ہوں اے مرے آقا ترا زندانی عشق اپنے قیدی کو اسی دام سے باندھے ہوئے رکھ مری آنکھوں سے برستے ہوئے ان اشکوں کو دل میں برپا کسی کہرام سے باندھے ہوئے رکھ […]

سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے

روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے دھیان سے جاتا ہے غم بے سروسامانی کا جب مدینے کی طرف میری نظر جاتی ہے اُڑتے اُڑتے ہی کبوتر کی طرح آخرِکار سبز گنبد پہ مری آنکھ ٹھہر جاتی ہے میں گذرتا ، تو وہاں جاں سے گذرتا چُپ چاپ یہ ہَوَا کیسے مدینے سے گذر جاتی […]

رہتے ہیں تصور میں وہ دن رات مسلسل

ملتی ہے مدینے سے یہ خیرات مسلسل آفاق میں ہوتا ہے درودوں کا وظیفہ جاتی ہے غلاموں کی یہ سوغات مسلسل ہر لحظہ رہے وردِ زباں اسمِ محمد رہتے ہیں تلاطم میں یہ جذبات مسلسل رہتا ہوں تخیّل میں شب و روز مدینہ ملتے ہیں مجھے قرب کے لمحات مسلسل الفقر کو ” فخری” جو […]

رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے

مجھکو محسوس یہ وہ رہا ہے انکی محفل میں جلوہ گری ہے نعت حسنِ شبہ دوسرا ہے نعت ہی ذکرِ ربّ العلیٰ ہے نعت لکھنا میری زندگی ہے نعت پڑھنا میری زندگی ہے عاشقو! تم اگر چاہتے ہو، ہو زیارت درِ مصطفیٰ کی دل کی جانب نگاہیں جھکا لو سامنے مصطفیٰ کی گلی ہے مجھکو […]

ذکرِصلّ علیٰ ہے زباں پر ‘ کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

ذکرِ صلّ علیٰ ہے زباں پر ‘ کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے سارا ماحول نکھرا ہوا ہے اور ہواؤں میں بھی تازگی ہے اتنا میٹھا ہے اسمِ محمد اس کی شیرینی کیونکر بیاں ہو ہونٹ لیتے ہیں آپس میں بوسے اس قدر نام میں چاشنی ہے تھا زمانے میں ظلمت کا ڈیرا ‘ آپ […]

ذات عالی صفات کے صدقے

آپ کی بات بات کے صدقے روشنی دے گئی شب معراج دن ملا ہم کو رات کے صدقے اللہ اللہ مقام کیسا ہے کائناتیں ہیں ذات کے صدقے نطق ہوں تیرے نطق پر قربان ہاتھ ہو تیرے ہاتھ کے صدقے ہے ازل اور ابد کی جو بنیاد اس جہانِ حیات کے صدقے

دیکھیں گے مدینہ ترے گلزار کا موسم

عنبر میں دھلے کوچہ و بازار کا موسم خوشبو سے معطّر ہیں زمانے کی فضائیں جس سمت بھی دیکھا ہے ترے پیار کا موسم دنیا میں ترے نام کی کیا دھوم مچی ہے رقصاں ہے ِتری یاد میں سنسار کا موسم اُمت تِری ‘ گمراہی کی دلدل میں دھنسی ہے اے کاش ! بدل جائے […]

"دیکھتے جلوہِ دیدار کو آتے جاتے

دیکھتے جلوہِ دیدار کو آتے جاتے گلِ نظارہ کو آنکھوں سے لگاتے جاتے ہر سحر روئے مبارک کی زیارت کرتے داغِ حرماں دلِ محزوں سے مٹاتے جاتے پائے اقدس سے اٹھاتے نہ کبھی آنکھوں کو روکنے والے اگر لاکھ ہٹاتے جاتے دشتِ اسرا میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے دھجیاں جیب و گریباں کی اڑاتے […]