حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو

حامل جلوہء ازل، پیکر نور ذات تو شان پیمبری سے ہے سرور کائنات تو فیض عمیم سے ترے قلب و نظر کی وسعتیں مومن حق پرست کا حوصلہء نجات تو تیرے عمل کے درس سے گرم ہے خون ہر بشر حسن نمود زندگی رنگ رخ حیات تو عقدہ کشائے این و آں ، نور فزائے […]

اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

ساری دنیا میں چلے اسوۂ سرکار کی بات نعتِ سرکار لکھوں اور عمل روشن ہو مدحِ آقا سے بنے سیرت و کردار کی بات ذکرِ اصحاب گرامی بھی ہے مدحت ان کی نجم کی بات بھی ہے ماہ کے انوار کی بات کاش اخلاص بھی حاصل ہو کبھی لفظوں کو دل پاکیزہ کرے عشق کے […]

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے

زمانہ ہم جسے کہتے ہیں نام تیرا ہے درائے اول و آخر ہے تو مرے مولٰی نہ ابتدا نہ کوئی اختتام تیرا ہے تری ثنا میں ہے مصروف بے زبانی بھی سکوتِ وقت کے لب پہ کلام تیرا ہے شعور نے سفرِ لاشعور کر دیکھا تمام لفظ ہیں اسکے ’دوام‘​ تیرا ہے تمام عمر کٹے […]

گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا

پائے ہر شے میں تجھے ڈھونڈنے والا تیرا کس کی تعمیر و ترقی میں ترا ہات نہیں لغزشِ پا کا مداوا تو کوئی بات نہیں روک لے گرتی فصیلوں کو سنبھالا تیرا بے سفینہ بھی وہ لہروں پہ ٹھہر سکتا ہے وہ ہر اِک راہِ حوادث سے گزر سکتا ہے آسرا ہو جسے اللہ تعالٰی […]

کرم کے بادل برس رہے ہیں

دلوں کی کھیتی ہری بھری ہے یہ کون آیا کہ ذکر جسکا نگر نگر ہے گلی گلی ہے یہ کون بن کر قرار آیا یہ کون جانِ بہار آیا گلوں کے چہرے ہیں نکھرے نکھرے کلی کلی میں شگفتگی ہے دیئے گلوں کے جلائے رکھنا نبی کی محفل سجائے رکھنا جو راحتِ دل سکونِ جاں […]

نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے

لہو بھی میری شریانوں کے اندر رقص کرتا ہے میری بے چین آنکھوں میں وہ جب تشریف لاتے ہیں تصور ان کے دامن سے لپٹ کر رقص کرتا ہے وہ صحراؤں میں بھی پانی پلا دیتے ہیں پیاسوں کو کہ ان کی انگلیوں میں بھی سمندر رقص کرتا ہے پڑے ہیں نقشِ پائے مصطفٰے کے […]

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا

جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھل اُس کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاں خیر سے مُجھ کو خیر البشر مل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار کی اور مری حیثیت ایک پرکار کی اُس […]

دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے

اگرچہ کل کے دن بھی جو قیامت ہے تو کیا غم ہے ہمیں حضرت کے کلمہ پاک کا ورد و وظیفہ ہے اگرچہ قبر کی شدت نہایت ہے تو کیا غم ہے رہیں گے مومنو خلد بریں میں عیش و عشرت سے اگر دنیائے فانی میں مصیبت ہے تو کیا غم ہے عطاؔ خاطر پریشاں […]

دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں

کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے حضور تشریف لا رہے ہیں نوازشوں پر نوازشیں ہیں عنایتوں پر عنایتیں ہیں نبی کی نعتیں سنا سنا کر ہم اپنی قسمت جگا رہے ہیں کہیں پہ رونق ہے مفلسوں کی کہیں پہ رونق ہے دل جلوں کی ہم کتنے خوش بخت ہیں جو نبی کی محفل سجا رہے […]

خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی

ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی میں نہ جاؤں گا کہیں بھی در نبی کا چھوڑ کر مجھ کو کوئے مصطفی کی چاکری اچھی لگی یوں تو کہنے کو گزاری زندگی میں نے مگر […]