بن گئی بات ان کا کرم ہو گیا شاخ نخل تمنا ہری ہو گئی

میرے لب پر مدینے کا نام آ گیا بیٹھے بیٹھے مری حاضری ہو گئی مجھ پر رحمت ہوئی میرے رب کی بڑی مہرباں ہو گیا کملی والا نبی پڑھ کے سویا درود ان پہ میں جس گھڑی پھر زیارت مجھے پ کی ہو گئی کتنا بے کیف تھا میکدے کا سماں دل کا پیمانہ تھا […]

بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے

اک طرف بخشش اک طرف جنتیں کیسے انعام ہیں امتی کے لیے چار سو رحمتوں کی ہوائیں چلیں، ہو گئی جس سے ساری فضا دلنشیں مسکراؤ سبھی آ گئے ہیں نبی، غم کے مارو تمہاری خوشی کے لیے چاند دو ہوگیا جوں ہی انگلی اٹھی، سوئے سورج نے بھی آنکھ تھی کھول دی کھوٹی قسمت […]

اپنی رحمت کے سمندر میں اتر جانے دے

بے ٹھکانہ ہوں ازل سے مجھے گھر جانے دے سوئے بطحا لئے جاتی ہے ہوائے بطحا بوئے دنیا مجھے گمراہ نہ کر جانے دے خواہش ذات بہت ساتھ دیا ہے تیرا اب جدھر میرے محمد ہیں ادھر جانے دے موت پر میرے شہیدوں کو بھی رشک آتا ہے اپنے قدموں سے لپٹ کر مجھے مر […]

اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا

میں سجاتا تھا سرکار کی محفلیں مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا ذکر سرکار کی ہیں بڑی برکتیں مل گئیں راحتیں عظمتیں رفعتیں میں گنگار تھا بے عمل تھا مگر مصطفی نے مجھے جنتی کر دیا لمحہ لمحہ ہے مجھ پر نبی کی عطا دوستو اور مانگوں میں مولا سے کیا […]

کہاں میں کہاں مدحِ ذاتِ گرامی

نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی پسینے پسینے ہوا جا رہا ہوں کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی سلام اس شہنشاہ ِہر دو سرا پر درود اس امامِ صفِ انبیاء پر پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں مگر اللہ اللہ خصوصی پیامی فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں کہ تشریف […]

مرحبا سید مکی مدنی العربی (جان قدسی)

اے کہ ہے ختم تری ذات پہ والا نسبی وہ تری شان ہے اے ہاشمی و مطلبی حبذا صلِّ علٰی اے مرے ممتاز نبی مرحبا سید مکی مدنی العربی دل وجاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی شافعِ حشر، شہنشاہِ جہاں، فخرِ امم دونوں عالم میں نہیں تجھ سا حسیں تیری قسم ایک میں کیا […]

صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے

صبح میلاد النبی ہے کیا سہانا نور ہے آ گیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے بزم طیبہ کیسی نورانی ہے، کتنا نور ہے نور ہے پھر نور کس کا جو سراپا نور ہے عرش نوری، فرش نوری، ذرہ ذرہ نور ہے نور کا دربار ہے، ہر سمت چھایا نور ہے ڈالی ڈالی […]

سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی

تو سب سے پہلے اس میں نعتِ حضرت کی غزل نکلی طبیعت ان کے دیوانوں کی اب کچھ کچھ سنبھل نکلی ہوائے دشتِ طیبہ گلشنِ جنت میں چل نکلی بڑا دعوٰی تھا خورشیدِ قیامت کو حرارت کا ترے ابرِ کرم کو دیکھ کر رنگت بدل نکلی لپٹ کر رہ گئے مجرم ترے دامانِ رحمت میں […]