دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے ناف زمیں ہے شہ کا مانند […]

ہم کھولتے ہیں راز کہ کس سے ہے کیا مراد

نعتِ رسول سے ہے ثنائے خدا مراد مدّاحی نبی کو کیا جس نے اختیار وہ شخص کامگار ہے، وہ شخص با مراد اللہ کے کرم کی ہے تعمیم جس جگہ اے دوستو! ہے اس سے عرب کی فضا مراد منزل نہیں ہے جس کی مدینے کی سر زمیں لاریب راہرو وہ ہے ناکام و نامراد […]

ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ

قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ رہ گئے منزل سدرہ پہ پہنچ کر جبریل چل نہیں سکتا فرشتہ تری رفتار کے ساتھ یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ اے خدا دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق حُسنِ کردار بھی دے […]

ہرکسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول

ہر کسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول کون کہہ سکتا ہے کیا ہے حدِّ امکان رسول سِدرہ تک ہی پَر فشانی کر سکے روحُ الامیں قاب قوسینِ اَو اَدنیٰ تک ہے جولانِ رسول جتنے پہلے کے صحیفے تھے مُحرَّف ہوچکے لیکن اَلْاَ نَ کَمَا کَانَ ہے قرآنِ رسول لشکرِ کفار پر جب بھی کرے […]

ہر اِک جہاں کے لئے ہے جو سیّد السّادات

جہان جس پہ ہے قرباں، دُرودِ تاج میں ہے وہ دستگیر، مددگار اور مولانا وہ بیکسوں کا نگہباں، دُرودِ تاج میں ہے وہ نام سُن کے جسے جاں نثار کرتے ہیں وہ جاں نثاروں کا ارماں، دُرودِ تاج میں ہے وہ بانٹتے ہیں غلاموں کو تاجِ عزّ و شرف اسی سبب سے یہ عنواں، دُرودِ […]

گو ہوں یکے از نغمہ سرایانِ محمد

شاید کہ مری لے نہیں شایانِ محمد ہے پاسِ ادب شرطِ نُخُستینِ مَحبّت بد مست نہ ہوں زمزمہ سنجانِ محمد جو بھی ہے تجلی کہیں پھوٹی ہے یہیں سے ہے مطلعِ ہر مہر، گریبانِ محمد ظلمت کدہِ دہر میں لو دیتی رہے گی تا صبحِ ابد شمعِ فروزانِ محمد سورج کی طرح یہ بھی دلیل […]

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا، تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی وہ دوبارہ سچ مچ مرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی جو اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا، تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی […]

کوئی گفتگو ہو لب پر، تیرا نام آ گیا ہے

تیری مدح کرتے کرتے، یہ مقام آ گیا ہے درِمصطفٰے کا منظر، مری چشم تر کے اندر کبھی صبح آ گیا ہے، کبھی شام آ گیا ہے یہ طلب تھی انبیاء کی رخِ مصطفٰے کو دیکھیں یہ نماز کا وسیلہ، انہیں کام آ گیا ہے جو سخی ہیں شہر بھر کے وہ گدا ہیں ان […]

کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا

ان کی گفتار کا آئینہ ہے کردار ان کا ان کے پیکر میں محبت کو ملی ہے تجسیم پیار کرتا ہے ہر انساں سے ، پرستار ان کا امتیازات مٹانے کے لیے آپ آئے ظلم کی آگ بجھانے کے لئے آپ آئے آدمیت سے تھا محروم گلستانِ حیات اور یہ پھول کھلانے کے لیے آپ […]

پرچم کشا جمال ہے شہر حبیب میں

ہر نقش بے مثال ہے شہر حبیب میں میری طرف بھی دیکھئے سرکار اک نظر ہر لب پر اک سوال ہے شہر حبیب میں بچھتا ہی جا رہا ہے ہر اک رہگذار پر دل کا عجیب حال ہے شہر حبیب میں جو زخم ہیں لگائے ہوئے روزگار کے ان سب کا اندمال ہے شہر حبیب […]