وہ کہ ہیں خیرالا نام

آسماں جھک کر کرے جن کو سلام زندہ جاوید جن کا پاک نام صیقلِ فکر ونظر جن کا کلام عدل وامید ویقیں جن کا پیام بہرِ نفع عام جن کے جملہ کام آدمی پر آدمی کی خواجگی جن کی شریعت میں حرام رہنما ساروں کے، ساروں کے امام جن کی عظمت کے ثنا خواں ہیں […]

میں نے یہ مانا کہ وہ میرا ہے تو سب کا بھی وہی

مجھ کو یہ ناز ، وہ سب کا ہے تو میرا بھی وہی وہ مری عقل میں ہے ، وہ میرے وجدان میں ہے میری دنیا بھی وہی ہے ، مری عقبی بھی وہی وہ جو برسا مری تشکیک کے صحراؤں میں میرے وہموں کی شبِ تار میں چمکا بھی وہی وہ بشَر ہے کہ […]

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​ جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​ اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​ ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​ دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں​ کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے​ طیبہ کے راستے میں ، […]

میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھادوں آنے والی ہے ان کی سواری پھول نعتوں کے گھر گھر سجادوں میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے اپنی پلکوں پہ شمعیں جلادوں میری جھولی میں کچھ نہیں ہے میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے اپنی آنکھوں کی چاندی بہادوں اپنے ماتھے […]

مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوں

خدائے روز و شب سے اور مانگوں بھی تو کیا مانگوں مدینے کے جزیرے پر مری کشتی ہے آ پہنچی خزانہ سامنے ہو تو بھلا نقشہ میں کیا مانگوں مرا مقصود کب ہے مال و دولت کی فراوانی مدینے میں سکونت کا اقامہ اے خدا مانگوں میں شہرِ علم کی دہلیز پر اے قادر مطلق […]

مری حیات کا گر تجھ سے انتساب نہیں

تو پھر حیات سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں امڈ رہی ہیں اگر آندھیاں تو کیا غم ہے کہ میرا خیمہِ ایمان بے طناب نہیں ترے کمالِ مساوات کی قسَم ہے مجھے کہ تیرے دیں سے بڑا کوئی انقلاب نہیں ندیم پر ترے احساں ہے اس قدر جن کا کوئی شمار نہیں ہے کوئی حساب […]

مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے ان کا نام

شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے ان کا نام تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے جب میرے دل میں انجمن آرا ہے ان کا نام ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے ان کی ذات سب پا شکستگاں کا سہارا ہے ان کا نام بے یاروں ، بے کسوں کا اثاثہ ہے ان […]

عشق کے رنگ میں رَنگ جائیں جب اَفکار

عشق کے رنگ میں رَنگ جائیں جب اَفکار تو کُھلتے ہیں غلاموں پہ وہ اَسرار کہ رَہتے ہیں وہ توَصیف و ثنائے شَہہِ ابرار میں ہر لحظہ گُہر بار   ورنہ وُہ سیّدِ عالی نَسَبی ہاں وُہی اُمّی لقَبی ، ہاشمی و مُطّلبی و عَرَبی و قَرشی و مَدَنی اور کہاں ہم سے گنہ گار […]

عالم کی ابتدا بھی ہے تو ، انتہا بھی تو

سب کچھ ہے تو ، مگر ہے کچھ اس کے سوا بھی تو کندہ درِ ازل پہ ترا اسمِ پاک تھا قصرِ ابَد میں گونجنے والی صدا بھی تو فردا و حال و ماضئ انساں یہی تو ہے تو ہی تو ہو گا ، تو ہی تو ہے اور تھا بھی تو یوں تو مرے […]

سیرت وکردار دیتے ہیں شہادت آپ کی

سیرت و کردار دیتے ہیں شہادت آپ کی چار سو تاباں جہاں میں ہے صداقت آپ کی زندگانی کا سلیقہ آپ نے بتلا دیا نوعِ انساں پر ہے بے پایاں عنایت آپ کی آپ کے افکار تو قرآن کی تفسیر ہیں باعثِ رحمت زمانے میں رسالت آپ کی ملّتِ بیضا کی عظمت آپ کی تعلیم […]