سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے ان کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرات مناسب نہیں ان کی سرکار میں التجا جنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے اپنی رو داد غم میں سناوؔں کسے، میرے دکھ کو کوئی اور سمجھے گا کیا؟ جس کی خاکِ […]

راہ گم کردہ مسافر کا نگہباں تو ہے

آفتِ جاں پہ مثال مہ تاباں تو ہے اس خدا سے مجھے کیسے ہو مجالِ انکار جس کے شہ پارہِ تخلیق کا عنواں تو ہے یہ بتانے کو کہ با وزن ہے انسان کی ذات دست یزداں نے جو بخشی ہے وہ میزاں تو ہے تیرا کردار ہے احکامِ خدا کی تائید چلتا پھرتا ، […]

دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی

ایک شیریں جھلک ، ایک نوریں ڈلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبی اے نوید مسیحا! تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے حشر […]

دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپ ہیں

اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپ ہیں یہ بھی ہے سچ کہ آپ کی گفتار ہے جمیل یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپ ہیں ہو لاکھ آفتابِ قیامت کی دھوپ تیز میرے لیے تو سایہِ دیوار آپ ہیں مجھ کو کسی سے حاجتِ چارہ گری نہیں ہر غم مجھے عزیز کہ غم خوار […]

دلوں کا شوق، روحوں کا تقاضا گنبد خضرا

زمانے کی نگاہوں کو اجالا گنبد خضرا گلستان جہاں میں زندگی پرور بہار اس کی سر آفاق لہراتا سویرا گنبد خضرا جو رنگ و بو کی دنیا سر زمیں شہر طیبہ ہے تو خلد چشم و فردوس تمنا گنبد خضرا فلاح و کامرانی کی بشارت اہل ایماں کو گنہگاروں کو رحمت کا اشارا گنبد خضرا […]

دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا

معجزہ حسنِ صوت کا ، زمزمہِ صدا ترا میرا کمال فن ، ترے حسن کلام کا غلام بات تھی جانفزا تری ، لہجہ تھا دلربا ترا جاں تری سر بہ سر جمال ! دل ترا ، آئینہ مثال تجھ کو ترے عدُو نے بھی دیکھا تو ہو گیا ترا اے مرے شاہِ شرق و غرب […]

خیر البشر پر لاکھوں سلام

لاکھوں درود اور لاکھوں سلام جنّ و ملائک تیرے غلام سب سے سوا ہے تیرا مقام یٰسین و طہٰ تیرے ہی نام خیر البشر پر لاکھوں سلام لاکھوں درود اور لاکھوں سلام​ سب کو میسّر ہو یہ مقام پہنچیں مدینے بن کر غلام پڑھتے درود اور پڑھتے سلام خیر البشر پر لاکھوں سلام لاکھوں درود […]

خوش ہوں کہ میری خاک ہی احمد نگر کی ہے

مجھ پر نظر ازل سے شہ بحر و بر کی ہے تابش میری نظر میں ہے اس رہگذار کی جس پر نثار جلوہ فشانی قمر کی ہے لب پر ہے بات خلق رسول کریم کی آمد ریاض جاں میں نسیم سحر کی ہے شاید کیا ہے یاد مجھے پھر حضور نے پھر کیفیت عجیب میری […]

خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم

وہ مرا سدرہ ، وہ مرا طوبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کا جلال ہے بحر و بر میں ، اس کا جمال ہے کوہ و قمر میں اس کی گرفت میں عالمِ اشیا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کتنے صحیفے میں نے کھنگالے ، نصف اندھیرے ، نصف اجالے تو ہی حقیقت ، […]

حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں

خوشا قسمت کہ میں تو جلوۂ زیبا میں رہتا ہوں شفق پھیلی ہو یا ہو صبح کے انوار کا منظر میں بے خود سا خیال سنتِ آقا میں رہتا ہوں مری سوکھی ہوئی کھیتی خدا سر سبز کر دے گا میں روز وشب خیالِ گنبد خضریٰ میں رہتا ہوں شعورِ زندگی پاتا ہوں میں دونوں […]