جہاں روضئہ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے

کہاں میں کہاں یہ مدینےکی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے محمد کی عظمت کو کیا پوچھتےہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی ، یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جو عاصی کو دامن میں اپنی چھپا لے، جو دشمن کو بھی […]

جو لب پہ خیر الوریٰ کے آیا وہ لفظ فرمان ہوگیا ہے

جو لب پہ خیر الوریٰ کے آیا وہ لفظ فرمان ہو گیا ہے بہارِ مدحت کا ہے وہ مژدہ ، ثنا کا عنوان ہو گیا ہے چمک اٹھی پھر حسین محفل ، درودِ خیر لبشر کی ضو سے چلا ہے ذکرِ حضور جب بھی وہ نورِ عرفان ہو گیا ہے دیارِ طیبہ میں شب گزارے […]

جب لیا نام نبی میں نے دعا سے پہلے

میری آواز وہاں پہنچی صبا سے پہلے کر نہ منزل کی طلب راہنما سے پہل ذکرِ محبوب سنا، ذکرِ خدا سے پہلے بے وضو پیار کے حلقے میں عبادت ہے حرام خوب رو لیتا ہوں آقا کی ثنا سے پہلے دمِ آخر مجھے آقا کی زیارت ہوگی ایک دن آئیں گے سرکار قضا سے پہلے […]

تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں

ٹھوکریں کھا کھا کے آ پہنچا تری سرکار میں جس میں دل بستا ہے وہ دنیا مدینہ ہی تو ہے دل میں کوئے یار ہے اور دل ہے کوئے یار میں اسی کی بے مثلی میں کیا شک، ایک ہے وہ ایک ہے یہ بھی اک بے مثل ہے کثرت کے لالہ زار میں دوستو […]

تو جب آیا تو مٹی روح و بدن کی تفریق

تو نے انساں کے خیالوں میں لہو دوڑایا سمٹ آیا ترے اک حرف صداقت میں وہ راز فلسفوں نے جسے تاحدِ گماں الجھایا راحتِ جاں ! ترے خورشیدِ محبت کا طلوع دھوپ کے روپ میں ہے ابر کرم کا سایا اپنے رفیقوں کے لئے پتھر بھی ڈھوئے آپ نے اور دشمنوں کے حق میں مصروفِ […]

بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے

سجی ہے محفل کونین مصطفیٰ کے لیے زباں کو اس لیے شیرینئی بیان ملی زباں ہے مدتِ محبوب کبریا کے لیے گدائے کوئے مدینہ ہوں کس کا منہ دیکھوں؟ اُنہی کی بخششیں کافی ہیں مجھ گدا کے لیے اُنہی کو لذت عشق نبی ملی، کہ جنہیں ازل میں چُن لیا قدرت نے اسِ عطا کے […]

بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے

مدعا پایا ہے عرض مدعا کرتے ہوئے بے نیاز نعمت کون و مکاں ہوتے گئے کوچہ سلطان عالم میں صدا کرتے ہوئے دیدہ و دل میں گل جلوہ سمٹتے ہیں کہاں کب یہ صورت سامنے تھی التجا کرتے ہوئے کب مجھے تھی جاں کی پرواہ ، کب مجھے تھا سر کا ہوش سجدہ شکر ان […]

باد رحمت سنک سنک جائے

وادی جاں مہک مہک جائے جب چھڑے بات نطق حضرت کی غنچہ فن چٹک چٹک جائے ماہ طیبہ کا جب خیال آئے شب ہجراں چمک چمک جائے جب سمائے نظر میں وہ پیکر ذہن میرا دمک دمک جائے فیض چشم حضور کیا کہنا ساغر دل چھلک چھلک جائے نام پاک ان کا ہو لبوں سے […]

اکرامِ نبی، الطافِ خدا، سبحان اللہ ماشاء اللہ

لب پر ہے نبی کی نعت سدا سبحان اللہ ماشاء اللہ افلاک ہوں یا ہو فرشِ زمیں، سرکار کے ہیں سب زیر نگیں ہے زیرِ قدم عرش اعلیٰ سبحان اللہ ماشاء اللہ چاہو تو ازل کے بیمارو، طیبہ کے حسیں ذرّے چن لو ہے خاکِ مقدس خاکِ شفا سبحان اللہ ماشاء اللہ آقا کے توسّل […]

اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں

کیا کیا نہ سکوں پایا سرکار کے قدموں میں دل کا تھا عجب عالم ان کے در اقدس پر سر پر تھا عجب سایہ سرکار کے قدموں میں وہ رب محمد کا تھا خاص کرم جس نے عالم نیا دیکھلایا سرکار کے قدموں میں جب سامنے جالی کے اشکوں کی سلامی دی سو شکر بجا […]