اس قدر کون محبّت کا صِلہ دیتا ہے

اُس کا بندہ ہوں جو بندے کو خدا دیتا ہے جب اُترتی ہے مِری رُوح میں عظمت اُس کی مجھ کو مسجوُد ملائک کا بنا دیتا ہے رہنمائی کے یہ تیور ہیں کہ مجھ میں بَس کر وہ مجھے میرے ہی جوہر کا پتا دیتا ہے اُس کے ارشاد سے مجھ پر مِرے اَسرار کُھلے […]

آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے

دل کو جو آرزو ہے تو خیرالبشر کی ہے پا لی ہے میں نے دین محمد کی سیدھی راہ الیاس کی تلاش نہ حاجت خضر کی ہے سرکار کی نظر ہے سبھی کچھ مرے لیے مجھ کو طلب نہ جاہ کی نا سیم و زر کی ہے جلوے بسے ہیں آنکھ میں ماہ حجاز کے […]

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

سن کر وہ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا ان پر تو گنہگار کا سب حال کھلا ہے اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہگار بہت ہوں میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا اے جوش جنوں پاس ادب بزم ہے جن کی اس بزم […]

یہاں پر نہیں ہے مرا دل وہاں ہے

یہاں پر نہیں ہے مرا دل وہاں ہے "جہاں روضئہ ُپاکِ خیرالورٰی ہے” عطا جس کو معراج رب نے کیا ہے وہی مصطفی ہے رسول خدا ہے یہ خاکِ مدینہ یہ عنبر سے اعلا یہاں پہ نبی کا پڑا نقش پا ہے محمد محبت کا نورِ مجسم سراپا محمد کا سب سے جدا ہے چلو […]

یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے

یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے بس مدحتِ حضور میں میری زباں کُھلے یادِ رسولِ پاک میں آنکھیں برس پڑیں دنیا کے سامنے جو میری داستان کُھلے کُھل جائے ایک بار درِ رحمت تمام مطلق یہ آرزو نہیں قصرِ جناں کُھلے میرے نصیب کا بھی ستارہ ہو اوج پر میرے لیے حضور […]

ہے تشنئہ تکمیل مدینے کی تمنا

اے موت ابھی اور ہے جینے کی تمنا بس اکِ تمنا ہے قرینے کی تمنا وہ صرف تمنا ہے مدینے کی تمنا اللہ غنی رفعتِ ایوانِ محمد ہے عرشِ الہیٰ کو بھی زینے کی تمنا دو بوند ملے ساغر ماَزاع سے ساقی بس اور نہیں کچھ مجھے پینے کی تمنا قسمت سے ملا آمنہ کا […]

ہمیشہ قریۂ اُمّی لقب میں رہتے ہیں

جہاں کہیں بھی ہوں حدِ ادب میں رہتے ہیں ازل کے دن سے ہیں تیرے غلام ابنِ غلام غرورِ نسبت و فخرِ نسب میں رہتے ہیں سوادِ روح میں صلِ علیٰ کی خوشبو ہے ثنا کے حرف جو دامانِ لب میں رہتے ہیں گدازِ نعت، بشر دوستی سکھاتا ہے ہر ایک شخص سے ملتے ہیں […]

ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے

آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے آستانِ حبیب خدا چایئے اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے آپ اپنی غلامی کی دے دیں […]

ہم بناوٹ سے نہیں کہتے کہ ہم تیرے ہیں​

ہم ترے در کی اٹھاتے ہیں قسم ، تیرے ہیں​​ چوم کر جن کو ملے کیف و سرور و مستی​ کیسے تاثیر رسا نقشِ قدم تیرے ہیں​​ غم دنیا کبھی پہلے ، نہ اب ہوگا کبھی​ شکرِ ایزاد! کہ مرے سینے میں غم تیرے ہیں​​ ہوں ابوبکرؓ و عمرؓ ، یا کہ ہوں عثمانؓ و […]

ہر صبح ہے نورِ رُخِ زیبائے محمد

ہر شام ہے گیسوئے دل آرائے محمد جپتی نہیں نظروں میں دو عالم کی تجلّی ہے جب سے تصور میں سراپائے محمد آئینے میں خود آئینہ گر بول رہا ہے جو حکمِ خدا ہے وہی ثنائے محمد انسان کو اگر تربیتِ فکر و نظر ہو پھیلی ہوئی ہر سمت ہے دنیائے محمد کانٹے مرے تلووّں […]