بے عمل ہوں مرے پاس کچھ بھی نہیں میری جھولی میں اشکوں کی سوغات ہے
غفلتوں میں کئی ہے مری زندگی آبرو لاج والے ترے ہاتھ ہے عشق کی بے کلی میرا ایمان ہے دردِ عشق نبی کا یہ احسان ہے ڈھل رہے ہیں ستارے مری آنکھ ست میری ہر رات تاروں بھری رات ہے سامنے اب تو صورت ہے سرکار کی گرگئی فاصلوں کی جو دیوار تھی میرا ربطِ […]