بے عمل ہوں مرے پاس کچھ بھی نہیں میری جھولی میں اشکوں کی سوغات ہے

غفلتوں میں کئی ہے مری زندگی آبرو لاج والے ترے ہاتھ ہے عشق کی بے کلی میرا ایمان ہے دردِ عشق نبی کا یہ احسان ہے ڈھل رہے ہیں ستارے مری آنکھ ست میری ہر رات تاروں بھری رات ہے سامنے اب تو صورت ہے سرکار کی گرگئی فاصلوں کی جو دیوار تھی میرا ربطِ […]

بڑھ کر ہے خاکِ طیبہ، رفعت میں آسماں سے

شمس و قمر سے افزوں ، روشن ہے کہکشاں سے ارضِ حجاز ہے اِک عِشق ووفا کی بستی افضل ہے کوئے احمد جنت کے گلستاں سے گمراہی و جہالت انساں کا تھیں مقدر علم و ہنر جو پایا، پایا اس آستاں سے آمد سے تیری پھلیں نور و یقیں کی کرنیں رخصت ہوئے اندھیرے ویرانہ […]

بارش ِ رحمت و انوار یہاں تک نہ رہے

بارشِ رحمت و انوار یہاں تک نہ رہے اے خدا، نعت فقط حرف و بیاں تک نہ رہے اے مرے آتشِ فارس کے بجھانے والے اس طرح ہجر بجھا دیں کہ دھواں تک نہ رہے شہرِ طیبہ کی سکونت جو ہمیں مل جائے عشرتِ زیست ہے کیا خواہش جاں تک نہ رہے صاحبِ شقِ قمر […]

اے شۂ انس وجاں،زینتِ این وآں ، بزمِ ہستی کی ہے دل کشی آپ سے

آپ آئے تو دُنیا مہکنے لگی ، گل بہ داماں ہوئی زندگی آپ سے چار سو راج کرتی تھیں تاریکیاں ، ظلمتیں خیمہ زن تھیں یہاں اور وہاں آپ کے دم سے جگ مگ ہوا سب جہاں ، مل گئی خلق کو روشنی آپ سے آپ کا دستِ شفقت بنا سائباں ، خستہ حالوںکا گھر […]

اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے

اُن سے ہاتھ ملانے والے کیسے ہوں گے نقشِ قدم میں چاند ستارے بکھرے ہیں جادۂ عرش پہ جانے والے کیسے ہوں گے چشمِ لطف سے ذرّے ، سورج چاند ہوئے راہوں میں بچھ جانے والے کیسے ہوں گے اشک کے جگنو کالی شب کو نور کریں دل میں دیے جلانے والے کیسے ہوں گے […]

اللہ کے حبیب شہِ انبیاء کی شان

ارفع ہر اک فکر سے ہے مصطفیٰ شان حق نے بلایا اس لیے اسریٰ کی شب انہیں قدموں سے آپ کے بڑھے عرشِ عُلیٰ کی شان ہر لمحہ آسماں سے فرشتوں کے کارواں آتے ہیں دیکھنے درِ خیرالوریٰ کی شان صدیق بن گیا، کوئی فاروق بن گیا پہچان لی ہے جس نے شہِ دوسرا کی […]

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا

مدحت کے پھول بن کے ہے گویا کھِلی ہوا پڑھتے رہے درود مسلسل تمام شب جگنو، لغت، گلاب، قلم، روشنی، ہوا مجرم ہوں مجھ کو اُن کی عدالت میں لے گئی میرے لئے تو پھول سی ہے ہتھکڑی ہوا کعبہ ، حطیم ، گنبدِ خضرا، درِ رسول پھر اس کے بعد اور کسے ڈھونڈتی ہوا […]

آنکھ میں جب مری وہ گنبدِ اخضر چمکا

ایک خورشید مری روح کے اندر چمکا بزمِ ہستی تھی اندھیروں کے طلسمات میں گم آپ آئے تو اندھیروں کا مقدر چمکا شعلہِ عشقِ محمد سے فروزاں ہے بلالؓ حسنِ نسبت کے شرف سے ہی ابوذرؓ چمکا مجھ پہ وہ ابرِ گہر بار مسلسل برسا مجھ پہ وہ مہرِ ضیا پاش برابر چمکا جس کے […]

آئی اجل کو ٹالنے والے تمہیں تو ہو

تنکے میں جان ڈالنے تمہیں تو ہو پُرساں جہاں میں جن کا نہ کوئی، نہ سر پرست ان بیکسوں کو پالنے والے تمہیں تو ہو لے ڈوبنے کو تھی جنہیں دل کی شکستگی آقا! انہیں سنبھالنے والے تمہیں تو ہو آتی ہے جس سے جاں تنِ بے جاں میں دفعتاً ایسی نگاہ ڈالنے والے تمہیں […]

یہی جی میں ہے

یہی جی میں ہے تری رحمتوں کے حصار میں ترے آستاں پہ کھڑا رہوں تری اُونٹنی کے سفر میں جو ‘اُڑی ریت ‘اُڑ کے دھنک بنی اُسے اپنی آنکھ سے چوم لوں،اُسے اپنی جاں میں اُتار لوں اُسی محترم سے غبار میں ،ترے راستوں میں پڑا رہوں یہی جی میں ہے یہی جی میں ہے […]