ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے

میں کھڑا ہوں روضہ خیرالبشر کے سامنے جھلملانے لگ گیئں روضے کی روشن جالیاں اک نیا منظر ہے میری چشمِ تر کے سامنے اڑ گئی مرے گناہوں کی سیاہی اڑ گئی ظلمتِ شب جس طرح نورِ سحر کے سامنے مانگتا ہوں جس قدر ملتا ہے کچھ اس سے سوا ہر دعا شرمندہ رہتی ہے اثر […]

ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں آدم سے تا بہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰ تک اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں اسلام چاہتا ہے اس واسطے اُخوّت جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں اخلاقِ مصطفیٰ […]

ہر شئے میں تیرے نور کا جلوہ ہے یا نبی

موسیٰ نہیں کہ طور سے ہو لَو لگی ہوئی تشنہ ہوں عشقِ چشمِ جنابِ رسول کا مرقد میں کیوں نہ آنکھ ہو میری کھلی ہوئی بندگی کا ہے مزہ جب کہ ہو اُلفت تیری بے نمک کھانے میں آتی نہیں لذت اچھی ساری مخلوق ہوئی آپ کے باعث پیدا سارے نبیوں سے ملی تم کو […]

ہر درد کی دوا ہے صلَ علیٰ محمد

تعویذ ہر بلا ہے صلَ علیٰ محمد محبوبِ کبریا ہے صلَ علیٰ محمد کیا نقشِ خوشنما ہے صلَ علیٰ محمد قربِ خدا ہو حاصل جنت میں ہو وہ داخل جس نے لکھا پڑھا ہے صلَ علیٰ محمد جنت مقام ہوگا دوزخ حرام ہوگا گر دل پہ لکھ لیا ہے صلَ علیٰ محمد اس کی نجات […]

کیامیسر ہے ، میسر جس کو یہ جگنو نہیں

کیا میسر ہے ، میسر جس کو یہ جگنو نہیں نعت کیا لکھے گا جس کی آنکھ میں آنسو نہیں اللہ اللہ رحمۃُ لِلّعالَمینی آپ کی آپ جیسا دہر میں کوئی ملائم خو نہیں اسم احمد سے مہک اُٹھی ہے بزم کائنات گلشنِ تخلیق میں ایسی کوئی خوشبو نہیں اک یہی نسخہ تو جملہ علّتوں […]

کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے

ہے وہی خدا ہمارا جو حضور کا خدا ہے یہ جو بزمِ آب و گِل ہے یہ تمام کربلا ہے جہاں امن و آشتی ہے وہ دیارِ مصطفیٰ ہے یہ جو آدمی کا رتبہ ہے بلند قدسیوں سے کسی اور کا نہیں ہے یہ کرم حضور کا ہے مہ و آفتاب کیا ہیں تری گردِ […]

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں

وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اترتے ہیں ترے چمن سے خزاں کا گزر نہیں ہوتا ترے چمن میں گل جاوداں اترتے ہیں بس اک بار وہ شہر جمال دیکھنا ہے جہاں پہ مہر و مہ و کہکشاں اترتے ہیں نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے بیاض دل سے وہ منظر کہاں […]

واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے

ہم دور سمجھتے ہیں تو پاس ہی رہتا ہے تو شرک سے بالا ہے اعلیٰ سے اعلیٰ ہے ہر جان کو تو اپنے قبضے میں ہی رکھتا ہے ہمسر نہ کوئی تیرا، ثانی نہ کوئی تیرا میں خبر جو پاتا ہوں، توفیق تو دیتا ہے موسم یہ سبھی تیری قدرت کی گواہی ہیں تو راز […]

نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے

میری بخشش کا سرِ حشر یہ سامان بھی ہے میں نے فرقت میں حضوری کا مزا پایا ہے میرا اظہار، مرے درد کا درمان بھی ہے نعت سے مجھ کو سلیقہ ملا گویائی کا اپنے آئینِ عقیدت کا یہ اعلان بھی ہے اُن کے ناموس کی عظمت پہ تصدّق ہوں گے اپنے آقا سے غلاموں […]