مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے

تہنیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غفّار ہے عرش سا فرشِ زمیں ہے فرشِ پا عرشِ بریں کیا نرالی طرز کی نامِ خُدا رفتار ہے چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدے کریں بَارَکَ اللہ مرجعِ عالَم یہی سرکار ہے جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دیے صدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم […]

نہ لاتی نرم سماعت ہی تاب، ممکن تھا

ترے سوال کا ورنہ جواب ممکن تھا تمہی کہو کہ بھلا خآک موندتے آنکھیں شکستِ خواب یقینی تھی خواب ممکن تھا نہ شرمسار ہوئے ہیں نہ شرمسار کیا اگرچہ سود و زیاں کا حساب ممکن تھا تمہارے بعد بھلا کون سی امان میں تھے ہمارے سر پہ کوئی بھی عذاب ممکن تھا اُدھر کسی کا […]

اپنی تمام رونقِ تاباں کے باوجود

میں ماہِ نیم شب ہوا، رُو بہ زوال ہوں اک عہدِ مہرباں کا تراشہ ہوا ، سو میں اس عہدِ ناسپاس میں ملنا محال ہوں افسوس ہے کہ مجھ سا کوئی بھی نہیں ہوا کم بخت آج تک بھی فقید المثال ہوں حرفوں سے مطمئن نہیں ہوتی ہیں وحشتیں میں پوچھتا نہیں ہوں سراپا سوال […]

تمہارے لحن میں ابھروں تو دائمی ٹھہروں

میں اس گمان میں قصہ ہوا ہی چاہتا ہوں تم کو لکھا ہے تو لکھا ہے روشنائی سے اب اپنے نام کی خاطر سیا ہی چاہتا ہوں تو پھوٹتی ہوئی پَو ہے سو مجھ کو کیا جانے چراغِ وقتِ سحر ہوں بجھا ہی چاہتا ہوں میں ڈھل رہا تھا سو تجھ کو نہ ڈھالنا چاہا […]

اٹکا ہے بڑی دیر سے خوش فہم کا دم بھی

تم ہاتھ جھٹک دو کہ سہولت سے مَرے دل یہ کم ہے کہ بے آس دھڑکتا ہے ابھی تک اب اور بھلا خآک کرامات کرے دل جاتے ہوئے لمحے نہ ٹھہرنے تھے وگرنہ سجدے کیے رستوں میں تو قدموں دھرے دل اب کوئی صدا ہے ، نہ گلہ ہے ، نہ تقاضہ بیٹھا ہے زمانے […]

شکوہِ مرگِ آرزوُ بھی نہیں

کوئی سامع نہیں ہے توُ بھی نہیں اب مخاطب کوئی نہیں میرا اور اب کوئی روبروُ بھی نہیں میں زمیں بوس ہی نہ ہو جاؤں میری بوسیدگی کو چھوُ بھی نہیں بیج دفنا رہے ہو خوابوں کے میری قدرت میں جب نموُ بھی نہیں گمشدہ خود کو ڈھونڈتا ہوں میں اب تمہاری تو جستجوُ بھی […]

سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے

باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف بیکس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں […]

جاگ اٹھا تو جنوں کس کو بھلا چھوڑے گا

مجھ کو چھوڑے گا نہ کچھ میرے سوا چھوڑے گا تار ہو کر جو تنے جاتے ہیں لمحہ لمحہ درد اعصاب کو مضراب بنا چھوڑے گا جس کے اک ہاتھ میں اشعار ہیں اک میں وحشت کیا ترے ہاتھ کو تھامے گا وہ کیا چھوڑے گا بھیڑیا گھات میں ہے سچ کا لپکنے کے لیے […]