اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر باقی صدیقی کا یوم پیدائش ہے۔

باقی صدیقی(20ستمبر1905ء – 8 جنوری 1972ء)
——
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ انہوں نے تقسیم ہند سے قبل چند ہندوستانی فلموں میں اداکاری بھی کی۔
باقی صدیقی 20 دسمبر، 1908ء کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں سہام میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام محمد افضل تھا۔ میٹرک پاس کرکے گاؤں کے مدرسہ میں مدرس ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد راولپنڈی آ گئے۔ سترہ برس ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔ ان کا اپنا مخصوص لہجہ ہے اور بات کہنے کا منفرد انداز ہے۔ ان کی ہر نظم میں کوئی نہ کوئی سُر مخفی ہے، جس کو وہ ایک آدھے مصرعے کے ذریعے یوں ادا کر جاتے ہیں جیسے کوئی دل کی بات زبان کی بجائے نگاہ سے کہہ جائے۔ ان کی بیشتر نظمیں چھوٹی بحر میں ہیں۔ ان میں ایک خاص قسم کا ردھم اور موسیقیت ہے۔ سادہ زبان اور ہلکے پھلکے الفاظ نے انتہائی مترنم مصرعوں کو جنم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک آدھ بار مطالعہ سے یہ نظمیں قاری کے دل میں اتر جاتی ہیں۔ باقی صدیقی کو پوٹھوہاری کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر کہا جا سکتا ہے۔ وہ پنجاب کی اصل تہذیب کے دل دادہ تھے۔ ان کے اردو کلام کے چار مجموعے جام جم (1944ء)، دارورسن (1951ء)، زخم بہار (غزلیات 1961ء)، بارِ سفر اور زادِ راہ (نعتیں) شائع ہوچکے ہیں۔ کچے گھڑے (1967ء) پوٹھوہاری نظموں کا مجموعہ ہے۔
——
وفات
——
8 جنوری 1972ء کو باقی صدیقی راولپنڈی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور راولپنڈی کے قبرستان قریشیاں سہام میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی لوحِ مزار پرانہی کے یہ دو اشعارکندہ ہیں:
——
دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
باقی، ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
——
باقی صدیقی اور زخمِ بہار از سلیم سہیل
——
زخمِ بہار باقی صدیقی کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس شاعری کا تذکرہ اردو غزل کی روایت میں کم ملتا ہے۔ اگر کوئی ذکر کہیں آتا بھی ہے تو حاشیے تک محدود ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ہمارے ہاں شاعری کے معاملے میں تعینِ قدر کا معاملہ بڑا حساس ہے۔ لوگ پہلے پہل کسی کی تعریف کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ یہ ڈر رہتا ہے کہ جو خصائص ہم اس شاعر میں بتائیں گے اگر دوسرے ان سے متفق نہ ہوئے تو پتا نہیں کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس لیے ہم انتظار کرتے ہیں۔ جب تک لکھنے والوں کا جید طبقہ اس کلام کی گواہی نہیں دیتا اس وقت تک ہم اپنی رائے روکے رکھتے ہیں۔ جب چند مضامین چھپ جاتے ہیں پھر چل سو چل۔ القابات کے مترادفات تلاش کیے جاتے ہیں اور ایک نئی ستائشی لغت مرتب ہو جاتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مختار صدیقی کا یوم پیدائش
——
باقی صدیقی کے بارے میں ایسا نہیں ہوا۔ مستند گواہیاں میسر نہ ہو سکیں اور ہوتیں بھی کیسے۔ ادبی اشرافیہ کا اعتماد حاصل کرنا کون سی آسان بات ہے۔ انا کی قربانی دینا پڑتی ہے اور وہ شاعر ہی کیا جو خراج کی گدائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے۔ پھر خیال آتا ہے کہ باقی صدیقی کے پاس کوئی بڑا منصب نہیں ہوگا۔ ورنہ تو اس کی زندگی میں درجنوں مقالات لکھے جا چکے ہوتے۔ اور آج وارثینِ باقی صدیقی، باقی صدیقی فاؤنڈیشن بنا کر یافت کے جدید طریقوں سے اپنی معیشت کو دگنا تگنا کر رہے ہوتے۔ کانفرنسیں، سیمینار ہو رہے ہوتے۔
شاعر کی خوش بختی کہ ایسا نہیں ہوا۔ اور زخمِ بہار انہی قالبوں کے حصے میں آئے جو ان کی چبھن اور کسک کو محسوس کر سکتے تھے۔ اس کتاب میں کتنے ہی ایسے اشعار ہیں جو غزل کی روایت میں باوقار انداز میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ان اشعار میں کس حسن کے ساتھ جذبہ لفظ بنا اور اس لفظ میں کتنا لبھانے والا تاثر موجود ہے۔ یہ شعر ایک محسوس کرنے والا دل ہی کہہ سکتا ہے۔ اس لیے یہ واردات ایک دل تک محدود نہیں رہتی بلکہ کئی دلوں کی آواز بن جاتی ہے۔ ایک طرح کی بے خودی ان اشعار کے حصے میں آئی ہے۔ جیسے کوئی دلِ درد مند دل کی کتاب کی قرأت کر رہا ہو۔
باقی صدیقی کے لہجے کا دھیماپن اسے شاعروں کے اس قبیلے سے جوڑتا ہے جو شعر کہتے ہوئے کسی وقتی کیفیت میں بپھرتے نہیں بلکہ ایک آہستہ چلتی ہوئی آب جو کی طرح رواں رہتے ہیں۔
——
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
——
یہ وہ شعر ہے جو ہر دل کی آواز بنا۔ شعر کا معاملہ عجیب ہے۔ اس میں دعویٰ نہیں چلتا۔ اور ہنر میں یکتائی کا دعویٰ دار سب کچھ ہو سکتا ہے شاعر نہیں ہو سکتا۔ یہ عجز کا کام ہے۔ اس شاعر کے حصے میں ہر وہ کیفیت آئی جس سے کوئی بھی اہلِ دل گزرتا ہے۔ اس نے اس کیفیت کی آواز میں آواز ملائی ہے اور ملاپ سے ایسی آواز نے جنم لیا جس میں حسن ہے۔ سبھاؤ ہے۔ زندگی کی کلفتوں کا بیان ہے۔ اور حیرت اس وقت ہوتی ہے جب تکلیف کے اس بیان میں شاعر اپنے اعصاب کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنے ردعمل میں تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتا۔
——
زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے
——
کتنا دلفریب سودا ہے۔ اس لین دین میں کتنا حسن ہے۔ زندگی دی جا رہی ہے اور نظر لی جا رہی ہے۔ دنیا سے کیا جانے والا یہ سودا آخر کتنے لوگ کر سکتے ہیں۔ اور دنیا انسان سے اس کی نظرکی بقا کے بدلے میں کم از کم قیمت زندگی کی صورت میں وصول کرتی ہے۔ اور شاعر کے پاس نظر ہی تو ہوتی ہے جو اسے زندگی کی بساط پر موت کا کھیل کھیلنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اپنی شرطوں زندگی جینا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔
——
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور نقاد نظیر صدیقی کا یوم پیدائش
——
باقی صدیقی نے ان مہربانوں سے بڑے جتن کرکے اپنے دل کو بچایا ہے اور اس دل کو محبت جیسے مقدس جذبے کی امان میں دیے رکھنے میں ہی عافیت جانی ہے۔
——
زمانہ گم ، زمیں گم ، آسماں گم
خیالِ دوست میں سارا جہاں گم
تغیر آشنا ہے سطحِ دریا
کبھی کشتی کبھی موجِ رواں گم
نظر اٹھی ہی تھی سوئے زمانہ
ہوا اتنے میں تیرا آستاں گم
——
اس شاعر کے سروکار تو دیکھیں جو محبوب کی یاد سے ایک پل غفلت بھی گوارا نہیں کر رہا۔ اس کے نزدیک اگر زمانے کو معاملاتِ دل میں شامل کیا تو یاد کی مالا ٹوٹ سکتی ہے۔ بھلا دل کے سامنے دنیا کی بساط ہی کیا ہے۔ مگر اس کیفیت کا ادراک کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ دنیا کی پروا کرنے والوں کی کیفیت اور انجام زندگی سے بے لطف ہو جانے کے علاوہ اور کیا ہے۔
——
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
——
اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقی
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم
——
آخر انسان کتنے لوگوں کو خوش رکھ سکتا ہے۔ زخمِ بہار کے حصے میں کتنی عجیب و غریب کیفیات آئی ہیں۔ متصادم احساسات کا بیان قاری کے زخموں کو ہرا کرتا نظر آتا ہے۔ غم، خوشی، قرار، بے قراری، نفی، اثبات، روشنی، اندھیرا ایک جھٹپٹے کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ یہ کتابی مشاہدے کی حامل شاعری ہرگز نہیں۔ اس شاعری میں دل کا صرفہ نظر آتا ہے۔
——
بن سکے سرخیِ رودادِ حیات
خونِ دل اتنا پس انداز تو ہے
——
شاعر کے نزدیک غمِ دنیا کا مداوا جذبۂ محبت میں ہے اور محبت ہی ایسی حرکی طاقت ہے جو دہشت کے سامنے دریا دل لوگوں کا مہذب ترین احتجاج رہا ہے۔ ایک شاعر کے دل میں ہی یہ جذبہ سما سکتا ہے اور پھر ایک زمانہ اس کا ہم آواز بن جا تا ہے۔
——
یہی جہاں تھا یہی گردشِ جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
——
دنیا والو یہ ماجرا عجب ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک گردشِ جہاں کسی کے ابرو کا اشارہ ہی تو ہوتا ہے۔ جب اپنا آپ کسی کے سپرد کر دیا تو پھر کیسی فنا اور کیسی بقا۔ بقا اور فنا کے جذبے محدود ہو جاتے ہیں۔ دماغ دل کی بیعت میں آ جاتے ہیں۔ سرکشی فرماں برداری میں بدل جاتی ہے۔ محبت احساس کی صورت دل میں داخل ہوتی ہے اور دل سنہرے ہو جاتے ہیں۔ باقی صدیقی کی شاعری مشکل مشکل تشبیہات و استعارات کا پشتارا ہرگز نہیں بلکہ ایک آسانی اور سہولت اس شاعری کا وصف ہے۔ اس آسانی کی تلاش میں شاعر کو بہت مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔ اور پھر اپنے اوپر بیتے لمحے لمحے کا ادراک حاصل ہو جاتا ہے۔
——
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
——
یہ کیسے سائے ہیں، یہ کیسا عجب مرحلہ ہے۔ ایسے اشعار کو محبت کا فیضان نہ کہیں تو اور کیا نام دیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : ناول نگار و افسانہ نگار شوکت صدیقی کا یوم وفات
——
منتخب کلام
——
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
——
کون اب دادِ سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
——
یہ دوپہر، یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقی
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
——
اب تو وہ جی سکتا ہے
جس کا دل ہو پتھر کا
——
آئی وہ شاہ کی سواری
آؤ ہم تالیاں بجائیں
——
وفا کا زخم ہے گہرا تو کوئی بات نہیں
لگاؤ بھی تو ہمیں ان سے انتہا کا تھا
——
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موجِ دریا پر دیا جلتا رہا
——
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
ایک دیوار اُٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
——
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خودفریبی سی خودفریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسمِ گُل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے شرار آنے لگے
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور نقاد نظیر صدیقی کا یوم وفات
——
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے
رات بھر بستر مرا جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوۓ
دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر دیا جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا
——
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر ساۓ کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا
دیکھ سروں پر چلتے ہل
دنیا برف کا تودا ہے
جتنا جل سکتا ہے جل
غم کی نہیں آواز کوئی
کاغذ کالے کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقؔی
دل سے گزرا پھر بادل
——
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا رہا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیک گیا ہوں
سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جاۓ گا جہاں تو مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
ایک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں
چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات