اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر، محقق، نقاد ، افسانہ نگار اور ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر اشرف کمال کا یوم پیدائش ہے۔

ڈاکٹر اشرف کمال
(پیدائش: 20 ستمبر 1970ء )
——
ڈاکٹر محمد اشرف کمال 20 ستمبر 1970ء کو پنجاب کے شہر بھکر میں پیدا ہوئے۔
آپ بنیادی طور شاعر، محقق، نقاد ادبی تاریخ نگار، افسانہ نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔
آپ کی تخلیقات اور تحریریں پاکستان ، بھارت اور برطانیہ کے رسائل و جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوتی رہتی ہیں۔
لندن (برطانیہ) سے شائع ہونے والے ماہانہ رسالہ ساحل کے ادارتی بورڈ میں بھی شامل ہیں ۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بھکر سے شائع ہونے والے میگزین دلکشا کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشرف الانبیاء ہے ہمارا نبی
——
اس سے پہلے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے ریسرچ جرنل زبان و ادب اور بریڈ فورڈ(برطانیہ) سے شائع ہونے والے ادبی رسالے مخزن کی ادارت سے منسلک رہ چکے ہیں۔
——
ڈاکٹر اشرف کمال سے گفتگو از مقبول ذکی مقبول، بھکر
——
سوال: آپ کو ملکی اور بین الاقوامی طور پر اردو برادری جانتی ہے اور آپ کی تحریروں کو پسند کی نظر سے دیکھتی ہے۔آپ کو کیسا لگتا ہے۔ ؟
جواب : سب سے پہلے میں آپ کے اس ادبی انٹرویوز کے سلسلے کو سراہوں گا جس سے ادب کے فروغ کو تقویت ملی ہے ۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو ظاہر ہے مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں اردو زبان وادب کی وجہ سے عالمی برادری کا حصہ بن گیا ہوں ۔ دوسرے ممالک میں جہاں اردو کے لیے کام ہو رہا ہے بہت سی شخصیات اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں جن سے رابطہ رہتا ہے ۔ ترکیہ سے ڈاکٹر خلیل طوقار ، جلال صوئیدان ، آسمان بیلن ، داود رہبر ، مصر سے ڈاکٹر ابراہیم ، ڈاکٹر اسامہ شیلبی ، ازبکستان سے ڈاکٹر تاش مرزا ، ایران سے ڈاکٹر علی بیات ، ڈاکٹر کیومرثی ۔ ڈاکٹر وفا یزداں منش ، جاپان سے ڈاکٹر سویامانے یاسر ، اور بھارت و بنگلہ دیش کے بہت سے اردو پڑھانے اور لکھنے والوں کے نام قابل ذکر ہیں ۔
سوال : ادب میں آغاز سے آپ کی بنیادی شناخت کیا ہے ۔؟
جواب : میری بنیادی شناخت کا سفر شاعری سے شروع ہواں ۔ جس نے میری زندگی اور خاص طور پر عملی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشرف علی تھانوی کا یومِ وفات
——
سوال : کوئی ابتدائی شعر جو سراہا گیا ہو ۔؟
جی میرا ایک شعر شروع شروع ہی سے پسند کیا جاتا رہا ہے جو میری پہلی غزل کا حصہ ہے امریکہ سے معروف شاعر اور گلوکار اشرف گل صاحب نے جس کی کمپوزیشن بھی کی اور اسے گایا بھی ۔
——
ڈھونڈتے ہو وفا زمانے میں
تم بھی اشرف کمال کرتے ہو
——
سوال : آپ شاعر ہیں نثر کی طرف کیسے راغب ہوۓ ۔؟
جواب : جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں کہوں گا یہ کوئی لگا بندھا اصول تو نہیں کہ شاعر صرف شاعری کرے اور نثر نگار صرف نثر نگاری کرے ۔ شاعری خالصتاً تخلیقی عمل ہے جبکہ تحقیق اور تنقید میں مطالعہ کے ساتھ ساتھ طبعی رجحان کا ہونا ضروری ہے ۔ مجھے بچپن ہی سے کہانیاں اور ناول پڑھنے کا شوق رہا اس طرح نثر اور پھر تنقیدوتحقیق کی طرف راغب ہوا ۔
سوال : آپ کو نظم ونثر کی ترغیب کیسے ملی ۔؟
جواب : بچپن ہی سے شاعری اور کہانیاں پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا جو ہنوز جاری ہے ۔ میرے گھر کی فضا بالکل ادبی نہیں تھی ۔ والد صاحب کا تعلق تجارت سے تھا جبکہ خاندان کے دوسرے افراد بھی ادب کی طرف رغبت نہیں رکھتے تھے ۔ مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ میں نےادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا اور یوں تحریک ملنے لگی ۔ اور ادب سے متعلق دوستوں کی اچھی خاصی تعداد مجھے میسر آگئی ۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی سختیوں اور سخت حالات نے میرے تخلیقی سفر کو بہت مہمیز کیا ۔
نظم و غزل کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ادبی رپورٹس مرتب کرتے کرتے نثر نگاری کی صلاحیت سے روشناس ہوا ۔ مجھے ادبی ذوق اور شوق سفر نے سائنسی قلمرو سے نکال کر ادب کے حلقے تک پہنچا دیا ۔
سوال : ماشاءاللہ آپ نے ادبی حوالے سے اپنا خوب نام روشن
کیا ہے ۔ کچھ اپنی ادبی مشکلات کے بارے بتائیے گا ۔؟
جواب : مضافات میں رہنے والوں کا ہمیشہ ہی سے یہ المیہ رہا ہے کہ انہیں منظر عام پر آنے کے لیے جگر کا خون لگانا پڑتا ہے ۔
مجھے بڑوں شہروں اور مرکز سے دوری کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ۔ لاھور ۔ میں اگر ایک ادیب تھوڑا بہت لکھنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کو میڈیا پر آسانی سے تشہیر کا موقعہ مل جاتا ہے جبکہ چھوٹے شہروں میں یہ بہت مشکل ہے ۔ البتہ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے اب اظہار آسان ہوا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشرف صبوحی کا یومِ وفات
——
سوال : ڈاکٹریٹ کا سفر اتنا دشوار گزار کیوں ہے ۔؟
جواب : وہ جس طرح کہتے ہیں کہ سونا آگ میں کندن ھوتا ہے اسی طرح ایک اعلیٰ معیار کو پانے کے لیے کسی بھی سکالرز کو بہت کڑے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ کسی بھی اعلیٰ ڈگری کے حصول کے لیے محنت بھی زیادہ کرنا پڑتی ہے ۔
سوال : آپ کی کم عمری کے باوجود کئی یونیورسٹیوں سے آپ کی تخلیقات اور تصنیفات پر مقالات لکھے گئے ۔ اس کے بارے قارئین کو کیا کہنا چاہیں گے۔۔۔۔۔؟
جواب : عمر کی حد بھی اپنی جگہ لیکن میرے بے لیکن میرے کام کی مقدار اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان محققین نے مقالات لکھے ۔ 13 مقالات لکھے جا چکے ہیں 3 لکھے جا رہے ہیں۔۔
سوال : آپ کی پسندیدہ صنف شعر کون سی ہے ۔؟
جواب : غزل
سوال : صنفِ ادب میں غزل کا کیا مقام ہے ۔۔۔۔۔؟
جواب : ادب میں غزل کا وہی مقام ہے ۔ جو انسانی جسم میں دل کا ۔ یہ ایک خوبصورت تخلیقی صنف ہے جس میں زندگی خے ہر شعبہ سے متعلق معاملات اور مضامین کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے ۔
سوال : آج کل مشاعروں میں ایسا کلام بھی سننے کو ملتا ہے ۔ جس کا ادب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا ایسا کیوں ہے۔۔۔۔۔؟
خواب : جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سوشل میڈیا نے شاعری کو تبدیل کیا ہے ۔ اصل میں سوشل میڈیا نے ادب کے تصوراتی عمل کو تصویریں ادب میں تبدیل کر کے اور گلیمر کا تڑکا لگا کر نئے شاعروں کو تخلیقی اظہار کی طرف راغب کیا ۔صرف یہی نہیں بلکہ اسے سستی شہرت اور مفادات کے حصول کا بھی ذریعہ بنا دیا ۔ زیادہ سے زیادہ نام بنانے کی بھوک اور شہرت کے بھوت نے شاعری کی معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ اس لئے ہمیں لگتا ہے کہ بہت سے لوگ جو حکومت بندی کر رہے ہیں اس کا تخلیقیت سے کوئی تعلق نہیں ۔ جی مشاعرے میں زیادہ تر ایسے متشاعر بھی آجاتے ہیں جنھیں شاعری کی الف ب تک نہیں معلوم ۔
سوال : آج کل ادب کی پرواز کافی بلند دکھائی دے رہی ہے ۔ اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔۔۔۔۔؟
جواب : ادب کی پرواز نیٹ اور فیس بک و واٹس ایپ اور الیکٹرانکس میڈیا کی وجہ سے ترقی کرتا نظر آتا ہے ۔ ھم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی تیز ترین ترقی کے ساتھ ساتھ ادبی ترقی کا پہیہ بھی تیزی سے گھومنے لگا ہے ۔
سوال : مضافات سے تعلق تکنے والے نئے شعراء و ادباء کو نام بنانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے ۔؟
جواب : مضافات کی سر زمین تخلیقی حوالے سے تو بہت زرخیز ہے تاھم بڑی وجہ یہاں کی سر زمین پر سادہ طرز زندگی اور انسانی اقدار کا گہرا اثر ہے ۔ ان کا اپنا ایک تہذیبی مزاج اور شعری رویہ ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ جو شعراء و ادباء اپنی تہذیب اور اپنی مٹی سے جڑے یوئے ہوتے ہیں وہ اپنی تہذیب اور علاقے کے نمائندے بھی ہوتے ہیں ۔ سو یہی وجہ ہے کہ مضافات کی شاعری میں پرخلوص رشتوں کا رس اور سچے جذبوں کا رچاؤ پایا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اب ان کا ادب بھی منظر عام پر آرہا ہے جو پہلے لوگوں کی نظر سے چھپا ٹوٹا تھا ۔ میرا مشورہ ہے کہ دنھیں اپنی تخلیقات کی تشہیر کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مطالعہ کے دامن کو بھی وسیع کرنا چاہئے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشرف علی تھانوی کا یومِ پیدائش
——
سوال : مستقبل نظم کا ہے یا نثر کا ۔؟
جواب : دونوں کا ہے ۔ گو کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نظم شاید زیادہ اہمیت اختیار کر لے لیکن میں کہوں گا کہ ادب بحیثیت مجموعی شائستگی ، نزاکت اور سادگی کی طرف رواں دواں ہے ۔ مشکل پسندی اور پیچیدہ اسلوب کی اب کوئی گنجائش نہیں ۔ مستقبل میں سلاست اور روانی تحریر اور سادہ طرز نگارش کو ہی دوام حاصل ہو گا ۔
سوال : کوئی پیغام جو ادب کے قارئین کو دینا چاہیں ۔ ؟
جواب : میں وہی کہوں گا کہ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔ اردو سے محبت کیجئے ادب سے محبت کیجئے اور اچھے ادب کو پڑھیں بھی یاد بھی رکھیں اور آگے بھی پہنچائیں ۔
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و سلم
——
جاگوں جو کبھی نیند سے ہر جلوہ نیا ہو
اٹھے جو مری آنکھ مدینے کی فضا ہو
اونچا ہے اسی شہر سے انسان کا رتبہ
ہر تاج جہاں قیصر و کسریٰ کا گرا ہو
لے جائے جو خوشبو کی طرح مجھ کو اڑا کر
آواز کی رفتار سے بھی تیز ہوا ہو
میں شہرِ نبی تختِ سلیمانؑ پہ پہنچوں
ان کو جو پسند آئے کوئی ایسی ادا ہو
ہونٹوں پہ ہو ہر وقت مرے نعت نبی کی
ہر لمحہ تصور میں مرے غارِ حرا ہو
——
ذرہ ذرہ وطن کی مٹی کا
چاندسورج سے بڑھ کے روشن ھے
یہاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ہیں
یہ بہشت بریں کا روزن ھے
——
میں نےکھینچی ہے یوں تصویر تری لفظوں میں
جو بھی پڑھتا ہے خدوخال میں کھو جاتا ہے
——
میں انقلاب پسندوں کی اک قبیل سے ہوں
جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں
میں یونہی دست و گریباں نہیں زمانے سے
میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں
——
میں بھی دنیا میں بڑے چین سے رہتا یارو
میرے سینے میں بھی دل کی جگہ پتھر ہوتا
——
میں ایک شہرِ خراب میں ھوں کہ اک مسلسل عذاب میں ہوں
تمام اندھے مرے چراغوں کو بیچنے پر تُلے ھوئے ہیں
——
دل تری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے
ان درختوں کی طرح میں بھی ہرا تھا پہلے
لے گیا لوٹ کے خوابوں کی وہ نقدی بھی تمام
حاکمِ شہر بھی لگتا ہے گدا تھا پہلے
سامنے آ کے بھی فریاد نہیں سنتا تھا
شاید اس شہر میں پتھر کا خدا تھا پہلے
اب وہی نام جو ہونٹوں پہ نہیں لاسکتے
اک وہی نام تو بس حرف دعا تھا پہلے
میں جو برباد ہوا خوش ہوئے چہرے کتنے
مجھ سے لگتا ہے کہ ہر شخص خفا تھا پہلے
تم جو آئے تو چلی بادِ بہاری ہر سو
سانس لینا بھی یہاں ورنہ سزا تھا پہلے
تجھ کو دیکھا تو ملی جلوہ نمائی اس کو
آئنہ ورنہ کہاں چشم کشا تھا پہلے
اب جسے سوچ کے زخموں میں جلن ہوتی ہے
سچ تو یہ ہے کہ وہی میری دوا تھا پہلے
——
بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو
ذرا سا جاتے ہوئے حوصلہ تو دے مجھ کو
وہ حبس ہے کہ کہیں سانس ہی نہ گھٹ جائے
ہلا کے ہاتھ ذرا سی ہوا تو دے مجھ کو
تو مسکرا ئے تو شاید کہ میں سنبھل جاؤں
اے زندگی تو کوئی آسرا تو دے مجھ کو
زمیں بتا تو کہاں تک مجھے گھمائے گی
میں تیرے ساتھ چلوں راستہ تو دے مجھ کو
قریب آ کہ میں محسوس کر سکوں تجھ کو
تو میرے ہونے کا کچھ تجربہ تو دے مجھ کو
——
کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا
میں جان سے گزروں تو گزرنے نہیں دیتا
جس میں ترا چہرا نظر آتا ہے ابھی تک
اس خواب کو آنکھوں میں بکھرنے نہیں دیتا
ہر بار نئے رنگ سے آتا ہے نکھر کے
وہ پیاس کے پیمانے کو بھرنے نہیں دیتا
جادو سا جگاتا ہے خط و خال سے اپنے
وہ خود کو مرے دل سے اترنے نہیں دیتا
اک آس لیے دیکھتا رہتا ہے مسلسل
پنگھٹ سے وہ گھاگر مجھے بھرنے نہیں دیتا
کوشش تو بہت کی مرے حالات نے لیکن
اک وقت مقرر مجھے مرنے نہیں دیتا
——
شعری انتخاب از فیس بک صفحہ : ڈاکٹر اشرف کمال
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات