اردوئے معلیٰ

Search

آج نامور مؤرخ اور دانشور حمزہ علوی کا یوم پیدائش ہے

حمزہ علوی(پیدائش: 10 اپریل، 1921ء – وفات: یکم دسمبر، 2003ء)
——
حمزہ علوی 10 اپریل، 1921ء کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام، ڈی جے کالج کراچی، واڈیا کالج پونا اور بمبئی یونیورسٹی سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا، تقسیم ہند کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منسلک ہو گئے۔ 1950ء کی دہائی میں وہ انگلستان منتقل ہو گئے اور تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس، یونیورسٹی آف ڈینیور، یونیورسٹی آف سسکس، یونیورسٹی آف مانچسٹر، یونیورسٹی آف لیڈز، یونیورسٹی آف ملائشیاکوالالمپور اور مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیے۔1968ء سے 1969ء کے دوران انہوں نے پنجاب کے ایک گاؤں میں اینتھروپولوجی کی فیلڈ ریسرچ کی۔ 1971ء سے 1985ء تک وہ جرنل آف کنٹمپریری ایشیا کے ادارتی بورڈ کے بانی رکن رہے۔ اسی دوران وہ جرنل آف پیزنٹ اسٹڈیز اور پاکستان ٹوڈے سے بھی وابستہ رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
——
حمزہ علوی کو اپنے نظریات کے اعتبار سے کمیونزم کے نزدیک تھے۔ انہوں نے آثار قدیمہ، تاریخ اور مارکسی نظریات کے حوالے سے لاتعداد مضامین تحریر کیے جو مختلف جرائد میں گاہے بہ گاہے شائع ہوئے۔ ان کی دو کتابیں تشکیل پاکستان مذہب اور سیکولرازم اور جاگیر داری اور سماج شائع ہوچکی ہیں۔
——
تصانیف
——
تشکیل پاکستان مذہب اور سیکولرازم
جاگیرداری اور سماج
پاکستان ایک ریاست کا بحران
تخلیق پاکستان
——
وفات
——
حمزہ علوی یکم دسمبر 2003ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔
——
حمزہ علوی کی خدمات از ڈاکٹر توصیف احمد خان
——
پروفیسر حمزہ علوی کا تعلق تاجروں کے خاندان سے تھا۔ انھوں نے کراچی اکیڈمی اسکول ڈی جے سائنس میں تعلیم حاصل کی۔ پھر پونا کے واڈیا کالج سے معاشیات میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے۔ حمزہ علوی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1945ء میں ریزرو بینک آف انڈیا سے کیا۔ پھر پاکستان کے قیام کے بعد کراچی میں اسٹیٹ بینک کے ایکسچینج کنٹرول کے شعبے کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1952ء میں حمزہ علوی کا شمار اسٹیٹ بینک کے 5 سینئر افسران میں ہوتا تھا۔ یوں وہ سینٹرل بورڈ کے سیکریٹری بنا دیے گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی اور غیر ملکی تاجر اسٹیٹ بینک سے خاطرخواہ غیر قانونی مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
افسروں کو مختلف فوائد اور مراعات حاصل کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔ حمزہ علوی نے قوم کے سرمایے سے دولت میں اضافے کے رجحان کے خلاف مزاحمت کی۔ اور ایک دن اچانک بینک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اگر وہ اپنی ملازمت برقرار رکھتے تو کم عمری میں ہی گورنر اسٹیٹ بینک بن جاتے یا عالمی بینک یا آئی ایم ایف میں کوئی عہدہ لے لیتے۔ لیکن حمزہ نے اپنی اہلیہ کے آبائی ملک مشرقی افریقہ جا کر زراعت کا شعبہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ حمزہ نے کسانوں پر تحقیق شروع کی۔ پاکستان میں 1958ء میں ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا۔ حمزہ اور ان کی اہلیہ نے لندن میں ہم خیال دوستوں کو جمع کیا اور مارشل لاء کے نقصانات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا شروع کی۔ حمزہ نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ ان سے نیو امپیریلزم New Imperelism، سماجی ناانصافیوں اور ان ممالک میں تبدیلی کے امکانات پر مباحثے شروع کیے۔ ان مباحثوں میں برطانیہ میں تارکین وطن کارکنوں کے استحصال اور ان کے مسائل پر خصوصی طور پر بات چیت ہوتی تھی۔ ان مجالسوں میں ٹونی بین اور ایرک ہابس بان Eric Hobsbawn جیسے کمیونسٹ دانشور بھی شرکت کرتے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : سلام علیک اے نبی مکرم
——
حمزہ علوی نے 1957ء سے 1962ء تک ایک رسالے پاکستان ٹوڈے کی ادارت کی۔ انھوں نے پاکستان ٹوڈے کے مختلف شماروں میں فوجی ڈکٹیٹرشپ کے سائے میں پاکستان کے حالات کا تجزیہ کیا۔ ان کا ایک آرٹیکل امریکی امداد کا نقصان The Burden of US Aid بہت زیادہ مقبول ہوا۔ عظیم شاعر فیض احمد فیضؔ نے یہ آرٹیکل پاکستان میں دوبارہ شایع کروا کر تقسیم کرایا۔ حمزہ علوی نے نسلی امتیاز کے خلاف فضا ہموار کرنے کے لیے ایک مہم کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب مارٹن لوتھر کنگ اپنا امن نوبل انعام لینے اسٹاک ہوم، سویڈن جا رہے تھے تو انھوں نے لندن میں قیام کے دوران حمزہ علوی اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کی۔ مارٹن لوتھر کنگ سے اس ملاقات میں نسلی امتیاز کے خلاف متحرک تنظیم کارڈ کے کارکنوں کو برطانیہ میں مشترکہ طور پر جدوجہد کو منظم کرنے کی اہمیت کا زیادہ احساس ہوا۔ حمزہ علوی نے 1960ء میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی مگر وزیر اعظم ولسن کی حکومت کی نسلی امتیاز کی پالیسی کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
حمزہ علوی نے پاکستان میں کسانوں کے حالات کا مشاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے ایک گاؤں میں 15 ماہ قیام کیا۔ ممتاز صحافی حمید اختر نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اسلام آباد کی ہدایت پر سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے حمزہ علوی کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ ان کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور کی گئیں مگر حمزہ کے عزم میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ پہلے محقق تھے جنہوں نے خود مشاہدہ کے بعد کسانوں کے بارے میں اپنا مقالہ تیار کیا۔ حمزہ نے اس تحقیق میں برادری، وراثت کے نظام اور منتخب سیاسی نظام کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ 1971ء میں پاکستان آ کر کسانوں پر تحقیق کا ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کرنا چاہتے تھے مگر 1971ء کی جنگ کی بناء پر یہ خیال عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ حمزہ علوی کو کینیڈا کی کوئینز یونیورسٹی میں پروفیسر شپ کی پیشکش ہوئی مگر خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات کی بناء پر ان پر کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ کوئینز یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بعد میں یہ پابندی ختم کرا دی۔
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
حمزہ نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ کینیڈا کی حکومت نے دوسرے اسکالروں کے ساتھ بھی یہ امتیازی سلوک کیا تھا اس لیے انھوں نے کوئینز یونیورسٹی جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کی سوشیالوجی کی چیئر کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ اس زمانے میں ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کا ماحول خاصا کھلا تھا مگر حمزہ صاحب کی اہلیہ ہالینڈ جانے پر تیار نہیں ہوئیں۔ حمزہ 1971ء میں مانچسٹر یونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبے میں ریڈر ہو گئے۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں اس وقت کسان سوسائٹی کے ایک اور طالب علم Teodor Shanini بھی موجود تھے، ان اساتذہ کے کام سے دنیا بھر کے طالب علم مستفیض ہوئے۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں انتظامیہ کو پی ایچ ڈی اساتذہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حمزہ علوی نے لندن اسکول آف اکنامکس کا ماحول کی بناء پر پی ایچ ڈی کا تھیسز جمع نہیں کرایا تھا اس بنا پر ٹیوڈر Teoder نے انھیں پیشکش کی کہ اگر وہ کسی تحقیق کو پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹرکرا دیتے ہیں تو انھیں ڈگری مل جائے گی۔ حمزہ صاحب نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زندگی بھر اس طرح کی باتوں کو اہمیت نہیں دی اور کبھی کیریئر بنانے کا نہیں سوچا۔ اگر وہ اپنے کیریئر کو بنانا چاہتے تو 1940ء میں ڈگری لے لیتے۔ انھوں نے پاکستان کی آزادی کی تحریک کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
حمزہ علوی کا کہنا ہے کہ حکومت کی ملازمتوں کے خواہش مند تنخواہ دار طبقہ نے پاکستان بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ تنخواہ دار طبقہ مذہبی رجحانات کا حامل تھا۔ متحدہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان تنخواہ دار طبقے میں مقابلہ تھا، یوں مسلمان تنخواہ دار طبقے کو نئی ریاست کے قیام میں اپنا مستقبل زیادہ محفوظ نظر آتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد علی جناح مذہبی ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے، وہ ایک لبرل ڈیموکریٹ تھے اور جناح صاحب مسلمانوں کے لیے ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے جہاں ہندوؤں کی بالادستی کا خوف نہ ہو۔ اسی لیے جناح صاحب نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں واضح کیا تھا کہ نئی ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
انھوں نے خلافت تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس تحریک کے نتیجے میں بنیادی طور پر سیاست میں مذہبی اور فرقہ وارانہ رجحانات کو تقویت ملی تھی۔ ان کے بے شمار مضامین دنیا بھر کے اخبارات اور رسائل میں شایع ہوئے۔ ان کی کتابوں کے اردو سمیت متعدد زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے، اردو میں شایع ہونے والی کتابوں میں جاگیرداری اور سامراج، ریاست کا بحران، تخلیق پاکستان، سماجی اور سیاسی مباحث شامل ہیں۔ حمزہ علوی 1997ء میں کراچی واپس آ گئے۔ جب تک ان کی صحت نے اجازت دی تحقیقی کام کرتے رہے اور علمی مجالس میں شرکت کرتے رہے۔ علوی صاحب نے اپنی زندگی میں کتابیں اور پینٹنگ جمع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ وہ ہزاروں کتابیں برطانیہ میں تقسیم کر کے آئے اور تقریباً 4 ہزار کتابوں کے ساتھ وہ کراچی آئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : افضل گوہر راؤ کا یومِ پیدائش
——
حمزہ علوی نے ڈاکٹر مبارک علی کو پیشکش کی کہ ان کتابوں کو نئی نسل کو منتقل کرنے کے لیے کچھ سوچیں۔ ڈاکٹر مبارک علی کے ساتھی پاکستان اسٹڈی سینٹر کراچی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد نے، جو ہمیشہ اپنے سینٹر میں نادر کتابیں جمع کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ان کتابوں کو اپنے سینٹر کی لائبریری میں منتقل کرنے کی پیشکش کی۔ پروفیسر حمزہ علوی اس عرصے میں بیمار پڑ گئے اور یکم دسمبر 2003ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ حمزہ علوی کے چھوٹے بھائی زین علوی نے دوستوں کے ساتھ مل کر حمزہ علوی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یوں تقریباً 3500 کتابیں پاکستان اسٹڈی سینٹر کو عطیہ دینے کا فیصلہ ہوا۔ اسٹڈی سینٹر کی لائبریری میں ان کتابوں کو رکھنے کی جگہ نہیں تھی، حمزہ علوی فاؤنڈیشن نے 30 لاکھ روپے کی لاگت سے لائبریری میں توسیع کرائی۔ اس طرح اس لائبریری میں نادر کتابوں کا اضافہ ہوا۔ اس لائبریری کے لیے صحافی ضمیر نیازی، پروفیسر اے بی حلیم، پروفیسر حسن عابد، صحافی حسن عابدی، صحافی احمد علی خان اور ان کی اہلیہ افسانہ نگار حاجرہ مسرور، ڈاکٹر عقیلہ کیانی، ڈاکٹر جعفری، ممتاز شیریں اپنی کتابوں کے عطیے دے چکے ہیں۔ لائبریری کے توسیع شدہ اس حصے کو حمزہ علوی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس طرح حمزہ علوی کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ