اردوئے معلیٰ

Search

جب سے وہ لب کشا نہیں ہوتا

غنچۂ دل یہ وا نہیں ہوتا

 

ایک اللہ کا نہیں ہوتا

آدمی ورنہ کیا نہیں ہوتا

 

کیوں لبوں پر مرے ہنسی آئے

دل میں کب درد سا نہیں ہوتا

 

شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے

کوئی ذرہ فنا نہیں ہوتا

 

شیخ کی طرح کیسے بات کریں

ہم سے یہ بچپنا نہیں ہوتا

 

وہ تمنا کا خون کرتے ہیں

جس کا کچھ خوں بہا نہیں ہوتا

 

رنگ رلیاں، شراب و رقص و سرود

اُن کی محفل میں کیا نہیں ہوتا

 

سب پکاریں تجھی کو بالآخر

جب کوئی آسرا نہیں ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ