اردوئے معلیٰ

Search

آج جدوجہد آزادی کی خاتون رہنما اور آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن بیگم جہاں آراء شاہنواز کا یوم وفات ہے۔

جہاں آراء شاہنواز(پیدائش: 7 اپریل 1896ء – وفات: 27 نومبر 1979ء)
——
جس خاندان سے بیگم جہاں آراء شاہنواز کا تعلق تھا، مرکزی خاندان کے طور پر جانا جاتا ہے، جسے شاید پندرہ صدی کے آخر میں آرائیں کا لقب دیا گیا تھا، اس کا تعلق پنجاب کے سب سے بڑے قبیلوں میں سے تھا۔ روایت ہے کہ یہ قبیلہ عرب سے ہجرت کر کے مصر آیا اور وہاں سے گیارہویں صدی میں برصغیر پاک و ہند میں آیا۔ لاہور سے ساڑھے چار میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں اسحاق پور اس وقت تک خاندانی بستی ہوا کرتا تھا جب تک کہ شہنشاہ شاہ جہاں نے نئے شالامار باغ کی جگہ کے طور پر زمین حاصل نہیں کی۔ اس کے بدلے میں اس نے خاندان کو دو ریونیو فری گاؤں دئیے۔ دونوں دیہات کے ساتھ ساتھ باغات کی تحویل کو خاندان نے 1950 کی دہائی تک اپنے پاس رکھا، کیونکہ سکھ اور برطانوی دونوں حکومتوں نے باضابطہ طور پر شہنشاہ کے تحائف کو تسلیم کیا تھا۔
شالامار گارڈن سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر گرینڈ ٹرنک روڈ پر ایک نیا گاؤں بنایا گیا تھا، جسے باغبانپورہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہیں اپنے دادا دادی کے گھر بیگم جہاں آراء شاہنواز 7 اپریل 1896 کو پیدا ہوئیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : حسن شاہنواز زیدی کا یوم پیدائش
——
آپ پاکستانی سیاستدان اور سماجی کارکن میاں سر محمد شفیع کی دختر تھیں۔ آپ کے والد میاں محمد شفیع ایک روشن خیال آدمی تھے اس لیے انہوں نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کی والدہ امیر النساء بھی عورتوں کی تعلیم و ترقی کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جہاں آراء شاہنواز نے کوئین میری کالج کا رُخ کیا جہاں آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ 1914ء میں جہاں آرا سر شاہنواز بار ایٹ لا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئیں۔
بیگم شاہنواز پردہ کے خاندانی پس منظر سے نکلی اور سولہ سال کی کم عمری میں اپنی پیاری بیٹی تازی کو جنم دے کر آل انڈیا ویمنز ایسوسی ایشن اور مسلم لیگ دونوں کے پلیٹ فارم سے خواتین کے مقاصد کی ایک بڑی وکیل بنیں۔
بہت سی دیگر اشرافیہ ہندوستانی خواتین کی طرح، وہ آزادی کی تحریک کے مرکزی دھارے میں شامل ہوگئیں جب برطانوی حکمرانی اپنے اختتام کو پہنچی تو ان خواتین نے اثر و رسوخ اور خود مختاری کا مظاہرہ کیا جو نہ صرف ان کی نسل کے لیے بلکہ عصری جنوبی ایشیا کی خواتین کے لیے بھی قابل ذکر ہے۔
باغبانپورہ آرائیں خاندان اور ان کے سیاسی حریفوں کے درمیان جو قریبی سماجی روابط برقرار تھے، جدید قاری بھی حیران رہ سکتا ہے۔ مسلم لیگ کی سیاست آج کی طرح منحرف تھی لیکن ذاتی عناد کے بغیر۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز چچا موتی لال نہرو کے ساتھ اپنے تعلقات کو جس گرمجوشی کے ساتھ بیان کرتی ہیں وہ بھی اتنی ہی حیرت انگیز ہے۔
گزرے ہوئے دور کی ایک اور یاد دہانی آرائیں خاندان کی عوامی خدمات ہیں۔ عوامی زندگی میں ان کا داخلہ پیسہ کمانے کے مقصد سے نہیں تھا، بلکہ اسے کمیونٹی اور قومی مقاصد کی ترقی میں صرف کرنا تھا۔ ۔ اسی طرح ان کے شوہر کے حوالے سے بھی کچھ قابلِ بیان نہیں کہ جن کی اپنی سیاسی شراکت قابل ذکر تھی،
بیگم جہاں آرا شاہنواز کو امریکہ میں مسلم لیگ کیس پر بحث کرنے کے لیے اچھی پوزیشن دی گئی۔ اس شراکت کو شاذ و نادر ہی تسلیم کیا گیا ہے اور اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، لیکن یہ پاکستان کے مقصد میں ان کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
آپ اردو اور انگریزی زبان کی ادیبہ بھی تھیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : علامہ اقبال کا یوم پیدائش
——
پہلی خاتون ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ممبر بنیں۔ 1929ء میں لاہور میں سماجی اصلاحات کی کانفرنس کی نائب صدر چنی گئیں۔ 1933ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کے فرائض انجام دیے۔ 1941ء میں قومی دفاعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1943ء تا 1945ء حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات کی جائنٹ سیکرٹری اورعورتوں کے شعبے کی انچارج رہیں۔ 1946ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنوری 1947ء میں قید بھی کاٹی۔ قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کی رکن چنی گئیں۔ اپوا کے بانی ارکان میں سے تھیں اور اس کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔
آپ نے 27 نومبر 1979ء کو لاہور میں وفات پائی اور باغبان پورہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں سر شاہنواز کے پہلو میں دفن ہوئیں۔
——
تصانیف
——
۔آپ کی درج ذیل کتب شائع ہوئیں:
1۔حسن آرا بیگم
2۔Father and Daughter(سیاسی سوانح حیات)
ویب سائیٹ جہاں بیگم جہاں آراء شاہنواز کے متعلق تمام تفصیلات موجود ہیں :
بیگم شاہنواز ڈاٹ کام
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ