اردوئے معلیٰ

Search

 

مذاقِ شعر و سخن ازل سے مجھے خدائے ازل نے بخشا

مزید اس کی عطا ہے ذوقِ ثنائے پاکِ حضورِ والا

 

نبی نہ نبیوں میں کوئی ان سا صفِ رسل میں نہ کوئی ایسا

ابو البشرؑ تا بہ ابنِ مریمؑ پڑھا سبھی کو، سبھی کو پرکھا

 

تمام نبیوں میں تھا جو اول بہ دورِ آخر اسی کو بھیجا

تمام عالم کی رہبری کو نگاہِ یزداں میں تھا وہ تنہا

 

اسی نے توڑا طلسمِ ظلمت اسی سے روشن ہے بزمِ دنیا

وہ جس کو کہتے ہیں ماہِ طیبہ وہ جس کو کہتے ہیں شاہِ بطحا

 

وہی بنا ہے صدائے دل اب وہی ہے اہلِ جہاں کا ماوا

صدائے حق جس کی اول اول ہوئی تھی ثابت صدا بہ صحرا

 

ہے اوڑھنا جس کا ایک کملی وہ جس کا بستر تھا بوریہ سا

درود پڑھتے ہیں اس نبی پر مسبحانِ ملائے اعلیٰ

 

وہ شاہِ شاہاں وہ شاہِ دوراں وہ شاہِ دنیا وہ شاہِ عقبیٰ

غلام اس کے شجاع و دارا ہے اس کے قدموں میں تاجِ کسریٰ

 

پہنچ کے دربار میں اسی کے سکون ملتا ہے زائروں کو

وہ بے نصیبوں کا ہے مقدر ستم رسیدوں کا وہ ہے ملجا

 

نظرؔ سے اپنی مزار دیکھوں درود بھیجوں سلام پڑھ لوں

یہی تمنائے آخری ہے کبھی جو پہنچا دے میرا مولا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ