اردوئے معلیٰ

Search

صَلِّ علیٰ نبیّنا قلب کا اطمینان ہے

اُن پر درود بھیجیے جن کی نرالی شان ہے

 

یادِ حضور آئی تو بزمِ درود سج گئی

ذکرِ رسول کے سبب مہکا مرا مکان ہے

 

شام و سحر ملائکہ دیتے ہیں حاضری جہاں

ہے وہ دیارِ مصطفیٰ اونچی ہی آن بان ہے

 

رب کا یہی ہے فیصلہ اس میں نہیں ہے شک ذرا

جس میں نبی کا ذکر ہو وہ بزم زعفران ہے

 

مینار اُس دیار کے چھوتے ہیں آسمان کو

گنبد درِ رسول کا رحمت کا سائبان ہے

 

ناموسِ مصطفیٰ پہ جو کرتے ہیں جان و دل نثار

دونوں جہاں میں باخدا اُن کے لیے امان ہے

 

دونوں جہاں کی رونقیں اُن کے ہی دم قدم سے ہیں

’’جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے‘‘

 

دشمنِ جان تھے سبھی اِک دوسرے کے اور اب

میرے حضور کے طفیل امن ہے اور امان ہے

 

خاکیؔ غم و الم کبھی مجھ کو نہ گھیر پائیں گے

آقا کا نعت گو ہوں میں اونچی مری اُڑان ہے

 

(برزمینِ اعلیٰ حضرت)

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ