اردوئے معلیٰ

آج مشہور وکیل، شاعر اور قیام پاکستان سے پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدے دار اور علامہ اقبالؒ کے دوست سید غلام بھیک نیرنگ کا یوم پیدائش ہے

سید غلام بھیک نیرنگ(پیدائش: 26 ستمبر 1876ء – وفات: 16 اکتوبر 1952ء)
——
علامہ اقبال ؒ اور میر غلام بھیک نیرنگ از ڈاکٹر محمد سلیم
——
میر غلام بھیک نیرنگ1875ءمیں دورانہ (ضلع انبالہ) کے ایک کھاتے پیتے سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے1895ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں اول رہے۔ انہوں نے 1895ءہی میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا۔ اسی سال علامہ اقبال ؒ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں تھرڈ ایئر میں داخلہ لیا تھا۔ چودھری جلال الدین جو اسی سال سیالکوٹ سے میٹرک کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تھے، ہوسٹل میں غلام بھیک نیرنگ کے روم میٹ تھے۔ چودھری صاحب کو شعر و ادب کا اچھا ذوق تھا، چنانچہ ان کے ذریعے اقبال اور نیرنگ نے اپنی اپنی غزلوں کے تبادلے کئے۔ اقبال نے نیرنگ کو جو غزل بھیجی، اس کا ایک شعر یہ تھا:
——
پائے ساقی پر گرایا جب گرایا ہے مجھے
چال سے خالی کہاں یہ لغزشِ مستانہ ہے
——
نیرنگ نے جو غزل بھیجی، اس کا ایک شعر یہ تھا:
——
حرم کو جانا جناب ِ زاہد، یہ ساری ظاہر پرستیاں ہیں
مَیں اُس کی رندی کو مانتا ہوں جو کام لے دَیر سے حَرم کا
——
یہ بھی پڑھیں : میر تقی میر کا یوم پیدائش
——
میر نیرنگ کہتے ہیں کہ جب مَیں نے اقبال کی غزل دیکھی تو میری آنکھیں کھل گئیں۔ مَیں نے اس وقت تک اہل ِ پنجاب کی اُردو شاعری کے جو نمونے دیکھے تھے، ان کو دیکھ کر مَیں اہل ِ پنجاب کی اُردو گوئی کا معتقد نہیں تھا، مگر اقبال کی اس غزل کو دیکھ کر مَیں نے اپنی رائے بدل لی اور مجھ کو معلوم ہو گیا کہ ذوق ِ سخن کا اجارہ کسی خطۂ زمین کو نہیں دیا گیا۔ جب بندشوں کی ایسی چستی، کلام کی ایسی روانی اور مضامین کی یہ شوخی ایک طالب علم کے کلام میں ہے تو خدا جانے اس پنجاب میں ”کتنے چھپے رستم پڑے ہوں گے، جن کا حال ہم کو معلوم نہیں۔ خیر اوروں کو چھوڑیئے، اقبال کا تو مَیں قائل ہی ہو گیا…. اقبال اور نیرنگ ان دنوں ایک ہی زمین میں ایک ساتھ طبع آزمائی بھی کیا کرتے تھے، چنانچہ میر نیرنگ کہتے ہیں:
——
غضب ہے رقیبوں سے لگ لگ کے چلنا
مگر ہم غریبوں سے یوں دُور رہنا
وہ قسمیں کہ ان سے ملیں گے نہ ہر گز
مگر دل کے ہاتھوں سے مجبور رہنا
ستم ہے ہمارے ہی دل میں سمانا
ہماری ہی آنکھوںسے مستور رہنا
——
اور اقبال کہتے ہیں:
——
سکھائی ہے کس نے تمہیں بے حجابی
حسینوں کا شیوہ ہے مستور رہنا
نبھائیں گے کیا ایک سے وہ محبت
جنہیں ہر نظر میں ہو منظور رہنا
کوئی چال بس خاکساری میں ہو گی
تمہاری تو عادت تھی مغرور رہنا
——
اس زمانے میں جب اقبال کے کلام پر اعتراضات ہوئے تو نیرنگ نے ”انبالوی“ کے قلمی نام سے ”مخزن“ اور دوسرے رسالوں میں ان اعتراضات کا جواب لکھا۔ بی اے کے بعد نیرنگ نے وکالت کا امتحان پاس کیا اور انبالہ میں پریکٹس شروع کر دی۔1909ءسے 1920ءتک سرکاری وکیل بھی رہے، مگر بعد میں ملازمت چھوڑ کر پھر وکالت کرنے لگے۔ 1905ءمیں جب اقبال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان روانہ ہوئے تو نیرنگ انہیں الوداع کہنے دہلی تک گئے۔ اقبال نے وہاں سے رخصت ہوتے وقت، خواجہ نظام الدین اولیاءکے مزار پر فاتحہ پڑھی تو میر نیرنگ بھی ان کے ساتھ تھے۔1908ءمیں جب اقبال پی ایچ ڈی اور بیرسٹری کی اسناد لے کر واپس آئے تو میر نیرنگ ان کے استقبال کے لئے انبالہ سے دہلی پہنچے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اقبال عظیم کا یوم پیدائش
——
اقبال نے یورپ سے واپسی پر لاہور میں وکالت شروع کی تو میر صاحب ان سے ملنے کے لئے لاہور آئے۔ میر صاحب کہتے ہیں: مَیں اقبال کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ کہیں گھومنے گئے ہیں۔ مَیں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے، اقبال نے بھی گھر سے نکلنا سیکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آئے تو مَیں نے دیکھا کہ نہایت نستعلیق سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ مَیں نے دوسرا شکر ادا کیا کہ اقبال ؒ نے ڈھنگ کا لباس پہننا سیکھا۔ خیر گلے ملے، مزاج پرسی ہوئی۔ اس کے بعد سوٹ کی بجائے وہی ہمیشہ کا تہبند بندھ گیا۔ وہی بنیان بدن پر رہ گیا۔ وہی کمبل شانوں پر سوار ہو گیا۔ ہم نفس (حقہ) حاضر ہو گیا۔ مَیں اور اقبال پہلے کی طرح فرش پر بیٹھ گئے۔ دُنیا بھر کی باتیں چھڑ گئیں…. یورپ ہو آئے، دماغ کو گو ناگوں فضائل ِ علمی سے آراستہ کر لائے، سینے کو طرح طرح کی امنگوں اور عزائم سے بھر لائے، مگر رندی اور قلندری میں فرق نہ آیا۔
حکومت برطانیہ اپنی سلطنت میں سیاسی، فوجی، علمی، ادبی خدمات کے لحاظ سے ہر سال خطابات عطا کرتی تھی۔ یکم جنوری 1923ءکو حکومت نے علامہ اقبال ؒ کے علمی مقام کے پیش ِ نظر انہیں سر کا خطاب دیا، لیکن مسلم عوام نے اسے پسند نہ کیا۔ ان کے دلوں میں اقبال کا جو مقام تھا، وہ ایسے خطابات کا محتاج نہیں تھا۔ ظفر علی خاں نے فوری ردعمل کے طور پر چند اشعار لکھے:
——
سرفروشوں کے ہیں ہم سر، آپ ہیں سرکار کے
آپ کا منصب ہے سرکاری ہمارا خانگی
چھوڑ کر اپنوں کو غیروں کا دیا ساتھ آپ نے
بات ہے یہ عقل کی یا عقل سے بیگانگی
——
سر کا خطاب ملنے پر اُن کے دوست میر غلام بھیک نیرنگ نے انہیں لکھا کہ شاید اب آپ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکیں۔ اس پر4جنوری1923ءکو علامہ نے یہ جواب تحریر کیا:…. قسم ہے خدائے ذوالجلال کی، جس کے قبضے میں میری جان اور آبرو ہے اور قسم ہے اس بزرگ و برتر وجود کی، جس کی وجہ سے مجھے خدا پر ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں، دُنیا کی کوئی قوت مجھے حق کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی، انشاءاللہ۔ اقبال کی زندگی مومنانہ نہیں، لیکن اس کا دل مومن ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ خطاب حاصل کرنے کے بعد اقبال کی آزادیٔ اظہار میں اضافہ ہی ہوا۔
میر غلام بھیک نیرنگ کے دل میں مذہب و ملت سے محبت کی شمع بھی روشن تھی۔ عاشق حسین بٹالوی لکھتے ہیں: 1922ءمیں ترک ِ موالات کی تحریک کے دوران یکایک آریہ سماجی لیڈروں نے آگرہ، متھرا، بھرت، پورو وغیرہ اضلاع کے ملکانہ راجپوتوں میں شدھی کی تحریک شروع کر دی۔ یہ راجپوت مذہباً مسلمان تھے، لیکن کوئی معقول دینی تعلیم نہ ملنے کی وجہ سے ان میں ہندوانہ رسوم جاری تھیں۔ ہندو پرچار کوی نے، جن کے سرگروہ سوامی شردھانند تھے، ان ملکاﺅں کو ہندو بنانے کے لئے مہم شروع کر دی اور لاکھوں روپے خرچ کر ڈالے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں سخت اضطراب پھیلا اور ردِعمل کے طور پر جا بجا تبلیغ و تلقین ِ اسلام کی کوششیں ہونے لگیں۔ میر نیرنگ نے محسوس کیا کہ اس کام کے لئے متحدہ عمل کی ضرورت ہے، چنانچہ انہوں نے انبالہ میں مرکزی انجمن دعوت و تبلیغ اسلام قائم کی،جس کے زیر اہتمام مبلغوں کی ایک بہت بڑی جماعت تیار کی گئی۔ یہ مبلغ ہندوستان کے اکثر حصوں میں پھیل گئے اور نہایت جاں فشانی اور کوشش سے فتنۂ ارتداد کا مقابلہ کیا۔ یہ میر نیرنگ ہی کی ہمت وسعی تھی کہ چند سال میں شُدھی کا نام و نشان مٹ گیا۔
5دسمبر1928ءکے خط میں اقبال نے اس سلسلے میں میر غلام بھیک نیرنگ کو لکھا: میرے نزدیک تبلیغ ِ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پر مقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت ِ اسلام اس مقصد کا عنصر نہیں ہے،جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویے سے معلوم ہوتا ہے، تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ بات مَیں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں اور سیاسیات ِ حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد۔ ہندوستان کی سیاسیات کی روش،جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، خود مذہب ِ اسلام کے لئے خطرۂ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرے کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم یہ بھی شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے۔ بہرحال جس جاں فشانی سے آپ نے تبلیغ کا کام کیا ہے، اس کا اجر حضور سرورِ کائنات ہی دے سکتے ہیں۔ مَیں انشاءاللہ جہاں جہاں موقع ہو گا، آپ کے ایجنٹ کے طور پر کہنے سننے کو حاضر ہوں۔
——
یہ بھی پڑھیں : سید غلام بھیک نیرنگ کا یوم وفات
——
اس سے پہلے20جنوری1927ءکو اقبال نے میر نیرنگ کو لکھا تھا کہ چند احباب کی تجویز ہے کہ آئندہ سال لاہور میں یورپین مسلمانوں کی ایک کانفرنس کی جائے، جس کا خرچ تقریباً 30ہزار روپے ہو گا۔ آپ کی جمعیت اس میں کیا مدد کر سکے گی؟ میر صاحب نے جواب دیا کہ ارادہ بہت اچھا ہے، لیکن روپے کا انتظام ضروری ہے۔ مناسب ہو اگر کسی بڑے آدمی کو صدر بنایا جائے اور اس سے رقم وصول کی جائے۔ پروپیگنڈہ آپ کے نام سے مَیں کر لوں گا۔ اس خط کے جواب میں24جنوری 1927ءکو اقبال نے لکھا:چندہ اس کانفرنس کے لئے انشاءاللہ ہو جائے گا۔ بڑے آدمیوں کی منت نہیں کرنی پڑے گی…. کم از کم سو یورپین مسلمان اس کانفرنس میں جمع ہو جائیں تو خوب ہو…. مسٹر پکتھال کو مَیں نے حیدر آباد خط لکھا تھا، ان کو اس خیال سے نا معلوم کیوں ہمدردی نہیں…. 1934ءمیں جب اقبال ؒ نے حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مزار کی زیارت کا ارادہ کیا تو میر نیرنگ کو لکھا کہ وہ بھی اُن کا ساتھ دیں۔ میر صاحب انبالہ سے سرہند پہنچے او اقبال ؒ کے ہمراہ مزار پر حاضر ہوئے۔ فاتحہ خوانی کے بعد اقبال ؒ دیر تک وہاں مراقبہ کرتے رہے۔ ”بال جبریل“ کے یہ اشعار انہی تاثرات کا نتیجہ ہیں:
——
حاضر ہوا مَیں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس ِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
——
علامہ اقبال ؒ کی وفات پر میر صاحب نے 22اپریل1938ءکو انبالہ شہر سے اپنے نواسے کو لکھا: افسوس، ایک وحید العصر فرید الدہر ہستی چل بسی۔ ایسے لوگ صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور خدا جانے کتنی صدیوں کے بعد پھر کوئی اقبال پیدا ہو۔ تقسیم ِ ملک کے بعد جب فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے اور انبالہ میں رہنا ناممکن ہو گیا تو میر صاحب اپنے متعلقین کو لے کر پاکستان آ گئے۔ وہ 16اکتوبر 1952ءکو لاہور میں انتقال کر گئے اور یہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ نیرنگ بھی اچھے شاعر تھے۔ ان کا ایک بہت عمدہ شعر سن لیجئے:
——
یہ بھی پڑھیں : زمانہ بھیک جس سے مانگتا ہے
——
گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں
انہی کی یاد میری زندگی ہے
——
نادر کاکوروی اور غلام بھیک نیرنگ کی شاعری کے پیش ِ نظر ایک وقت اقبال ؒ نے کہا تھا:
——
نادر و نیرنگ ہیں اقبال میرے ہم صفیر
ہے اسی تثلیت فی التوحید کا سودا مجھے
——
منتخب کلام
——
یہ شایاں ہے عاشق کا دستور رہنا
مجھے پی کے تھوڑی سی مخمور رہنا
——
غزل میں لطف ہی اب کیا ہے لیکن کچھ جو باقی ہے
سو تقلید ادائے غالب معجز بیاں تک ہے
——
جائےماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن
کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے
——
چُھپو گے کیا مرا ذوقِ طلب بھی تم نے دیکھا ہے
ورائے لامکاں ہے انتہائے جستجو میری
——
مری نظروں میں زاہد اور ہی جلوے سمائے ہیں
نظر تیری تو حسنِ حور و غلمانِ جناں تک ہے
——
ہے تو نیرنگؔ وہی عشق کا رونا دھونا
انہی باتوں میں نیا رنگ دکھا جاتے ہو
——
دل گئے ، ایماں گئے ، عقلیں گئیں ، جانیں گئیں
تم نے کیا کیا کر دکھایا اک نگاہِ ناز سے
——
ایک سے ایک کو عبرت ہو یہ ممکن ہی نہیں
کون ہے ورنہ جو دل دے کے پشیماں نہ ہوا
——
کس جلوے کی رہتی ہے تلاش آپ کو نیرنگؔ
گھبرائی ہوئی پھرتی ہیں حضرت کی نگاہیں
——
یاں تو اے نیرنگؔ دونوں کے لیے ساماں نہیں
موت بھی مجھ پر گراں ہے گر ہے بھاری زندگی
——
تحسینِ حسنِ یار میں میرا ہے ہم خیال
نیرنگؔ ! کیوں نہ ہو مجھے الفت رقیب سے
——
مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر
رہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر
زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو
گل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر
اشک شادی ہے یہ کچھ مثدہ صبا لائی ہے
شبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر
ذرہٗ وادئ الفت پہ مناسب ہے نگاہ
فلک حسن پہ خورشید درخشاں ہو کر
شوخیاں اس نگہ زیر مثہ کی مت پوچھ
دل عاشق میں کھبی ہے پیکاں ہو کر
شدت شوق شہادت کا کہوں کیا عالم
تیغ قاتل پڑی سر پہ مرے احساں ہو کر
اب تو وہ خبط مرے عشق کو کہہ کر دیکھیں
خود ہی آئینے کو تکنے لگے حیراں ہو کر
——
یہ بھی پڑھیں : ہے زمیں آسماں میں اللہ ہو
——
کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو
دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو
اک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو
دل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو
میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب
یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو
تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں
خواب شیریں سے تمنا کو جگا جاتے ہو
اتنی ہم کو بھی دکھاتے ہو مسیحا نفسی
حسرت مردہ کو آ آ کے جلا جاتے ہو
نگہ لطف میں جادو ہت تمھاری جاناں
سارے شکوے گلے اک پل میں بھلا جاتے ہو
شعلہٗ طور سے تو وادی ایمن ہی جلا
تم جہاں آتے ہو اک آگ لگا جاتے ہو
ہے تو نیرنگؔ وہی عشق کا رونا دھونا
انہی باتوں میں نیا رنگ دکھا جاتے ہو
——
کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی
زندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگی
کیا ارادوں سے ہے حاصل؟ طاقت و فرصت کہاں
ہاےٗ! کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی
اے سر شوریدہ اب تیرے وہ سودا کیا ہوےٗ!
کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا
آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
آرزوےٗ زیست بھی یاں آرزوےٗ دید ہے
تو نہ پیارا ہو تو مجھ کو ہو نہ پیاری زندگی
اور مرجھاےٗ گی تیری چھیڑ سے دل کی کلی
کر نہ دو بھر مجھ پہ اے باد بہاری زندگی
یاں تو اے نیرنگؔ دونوں کے لیے ساماں نہیں
موت بھی مجھ پر گراں ہے گر ہے بھاری زندگی
——
شعری انتخاب از کلامِ نیرنگ ، مصنف : غلام بھیک نیرنگ
شائع شدہ : 1983 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات