اردوئے معلیٰ

Search

کوئی تو ایسی بات شہِ کربلا میں ہے

اک تذکرہ مدام جو خلقِ خدا میں ہے

 

سجدے میں سر کٹانے کی لذت نہ پوچھئے

کیا زندگی کا لطف مقامِ فنا میں ہے

 

بھولا نہیں کسی کو بھی مقتل کا مرحلہ

گلدستۂ شہید رہِ کبریا میں ہے

 

نادان اپنے سینے سے آ کر لپٹ گئی

رقاصۂ اجل جو قدِ آشنا میں ہے

 

پیغام دے رہی ہے ہوا اذنِ شاہ میں

لکھی ہوئی حضور شہادت فنا میں ہے

 

کرتی رہے گی حشر تلک دیں کو سر فراز

شبیرؑ ترے خون کی خوشبو ہوا میں ہے

 

دائم فرات اشکوں کے دریا بہائے گا

نا کامیابیوں پہ خجل اور سزا میں ہے

 

گستاخؔ تو شدائدِ دنیا کا غم نہ کر

ہیرا کمال و اوج کا کوہِ جفا میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ