اردوئے معلیٰ

ایسے ہیں یہ الگ الگ ، جیسے جُدا ہیں مَشرقین

ایسے ہیں یہ الگ الگ ، جیسے جُدا ہیں مَشرقین

چَین کے روزو شب میں عشق ، عشق کے روزوشب میں چَین

 

آپ نے پھول توڑ کر بھر لی ہے ٹوکری مگر

سُنیے تو پیڑ کی کراہ ، سُنیے تو ٹہنیوں کے بَین

 

کب وہ بہارِ جاں فزا اُترے گی میرے صحن میں

چہکے گا کب خموش دن ؟ مہکے گی کب اُداس رَین ؟

 

تیرے خیال پر فدا غالب و میر و مصحفی

تیرے جمال کے گدا مانی ، پکاسو ، صادقین

 

دل میں دبا کے چیخ مَیں ہجر کے گھاٹ اُتر گیا

مُجھ کو پکارتے رہے دُور سے دو سیاہ نَین

 

مے کدۂ خُمار ایک ، کوچۂ یادگار ایک

دو ہی مقام ہیں عزیز یعنی ہمارے قبلتین

 

سُنّی ہوں میں تو کیا ہوا؟ دِین ہے کربلا مرا

فارسِ کربلائی ہوں یعنی کہ عاشق ِ حسینؑ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ