اردوئے معلیٰ

تقویم کا پندار ہیں وہ سال تریسٹھ

تقویم کا پندار ہیں وہ سال تریسٹھ

پندار کا معیار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

تحسین کی تجسیم ہیں ساعاتِ معالی

انوار بہ انوار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

موقوف اُنہی پر ہے شرَف یابئ ہستی

کونین میں شہکار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

معراجِ سکینت ہے وہی عرصۂ فرحاں

تسکینِ دلِ زار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

سرشارِ عطا رکھتے ہیں احساسِ دُعا کو

فیضان کے ابحار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

لا ریب کمالات کا منَہج ہے وہی عصر

عظمت کے نگہ دار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

اب بھی اُسی قرن کی خیرات کے چرچے

کس درجہ کرم بار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

ہر فوز کو اُن ہی سے ہے تصدیق کی حاجت

ہر اوج کا اظہار ہیں وہ سال تریسٹھ

 

مقصودؔ ! زمانے ہیں اُسی عصر کے مملوک

اور مالک و مختار ہیں وہ سال تریسٹھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ