ہائے یہ رنج محبت کہ جسے پانے میں

ہائے یہ رنج محبت کہ جسے پانے میں
میں نے اک عمر کمائی ہوئی عزت اپنی
چند لمحوں کی رفاقت پہ نچھاور کردی
میں بھی اوروں کی طرح عام سی لڑکی نکلی
وہ مرا زعم مرا مان دکھاوا نکلا
مجھ کو لگتا تھا مرا دل بھی کوئی پتھر ہے
جس پہ آہوں کا اثر ہے نہ کسی دستک کا
میں تو بہری ہوں صدائیں ہی نہیں سن سکتی
لوگ آواز لگاتے ہیں گذر جاتے ہیں
مجھ کو لگتا تھا مرے گرد کوئی خول سا ہے
جو کبھی ٹوٹ سکا ہے نہ کبھی ٹوٹے گا
پر میں لفظوں کی حرارت سے پگھلنے والی
ایک بس عام بہت عام سی لڑکی نکلی
جس کو جو چاہے محبت کا وظیفہ پڑھ کے
اپنی مٹھی میں کرے قید
کئی دن رکھے
اور بھر جائے اگر دل تو اٹھا کر پھینکے
آج یہ کرب مجھے چین نہ لے دے گا
خود کو میں خاص بہت خاص سمجھنے والی
میں بھی اوروں کی طرح عام سی لڑکی نکلی
کتنی گرہیں ہیں جو اب روح میں پڑ جاتی ہیں
اور میں خود اپنے کہے سے ہی مکر جاتی ہوں
ہائے اک بار ندامت ہے مرے شانوں پہ
جس کو ڈھونے کا جو سوچوں بھی تو مر جاتی ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

ادھ کھلی گرہ

میں اساطیر کا کردار نہ ہی کوئی خدا میں فقط خاک کے پیکر کے سوا کچھ نہ سہی میری تاویل ، مرے شعر، حکایات مری ایک بے مایہ تصور کے سوا کچھ نہ سہی میری پروازِ تخیل بھی فقط جھوٹ سہی میرا افلاکِ تصور بھی قفس ہو شاید میرا ہر حرفِ وفا محض اداکاری ہے […]

بے دلی

وضاحتوں کی ضرورت نہیں رہی ہے کہ اب بطورِ خاص وضاحت سے ہم کو نفرت ہے جو دستیاب ہے بس اب وہی حقیقت ہے جو ممکنات میں ہے وہ کہیں نہیں گویا برائے خواب بچی ہے تو دست برداری فنونِ عشق پہ حاوی فنا کی فنکاری محبتوں کے تماشے بہت ہوئے اب تک دلِ تباہ […]