متاع ِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں

متاعِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں

اسی پہ طرزِ عمل کی اساس رکھتے ہیں

مشامِ جاں ہے معطر اسی گل تر سے

شبوں میں اسم پیمبر کی باس رکھتے ہیں

وہ جامِ کوثر و تسنیم بھی چکھیں گے ضرور

جو ان کے جامِ زیارت کی پیاس رکھتے ہیں

ہمیشہ چومیں گے روضے کی جالیوں کو ہم

دعائے نیم شبی میں یہ آس رکھتے ہیں

وہ لوگ مر کے بھی رکھتے ہیں نسبتِ بطحا

لحد میں خاک مدینہ جو پاس رکھتے ہیں

سکون شاہدہ ان کو نصیب ہوتا ہے

جو یاد طیبہ میں خود کو اداس رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]