متاع ِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں
متاعِ نعت میں حرف سپاس رکھتے ہیں
اسی پہ طرزِ عمل کی اساس رکھتے ہیں
مشامِ جاں ہے معطر اسی گل تر سے
شبوں میں اسم پیمبر کی باس رکھتے ہیں
وہ جامِ کوثر و تسنیم بھی چکھیں گے ضرور
جو ان کے جامِ زیارت کی پیاس رکھتے ہیں
ہمیشہ چومیں گے روضے کی جالیوں کو ہم
دعائے نیم شبی میں یہ آس رکھتے ہیں
وہ لوگ مر کے بھی رکھتے ہیں نسبتِ بطحا
لحد میں خاک مدینہ جو پاس رکھتے ہیں
سکون شاہدہ ان کو نصیب ہوتا ہے
جو یاد طیبہ میں خود کو اداس رکھتے ہیں